پی ٹی آئی نے پہلا اور طلباء پر کیا اور معصوم طابعلموں کا خون بہایا : سراج الحق

پی ٹی آئی نے پہلا اور طلباء پر کیا اور معصوم طابعلموں کا خون بہایا : سراج الحق

  



مردان (بیورورپورٹ ) جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ احتساب رات کے اندھیرے میں نہیں دن کی روشنی میں ہونی چاہیئے ، پانا مہ سکینڈل میں شامل تمام کرداروں کو پکڑناہوگا ، آئی ایف ایم سے مذاکرات سے رجوع مہنگائی کا نیا طوفان برپاہوگاحکومت نے اپنے منشور میں جو وعدے کئے تھے اسے عملی جامہ پہنائیں۔ملک کو مزید قرضوں میں ڈبویا جارہا ہے جو کسی بھی صورت عوام برداشت نہیں کریں گے۔تحریک انصاف نے حکومت سنبھالتے ہی پشاور میں معصوم طلباء کا خون بہایا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنما اور تحصیل نائب ناظم مشتاق سیماب کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پارٹی کے مرکزی نائب قیم اظہر اقبال،صوبائی جنرل سیکرٹری عبد الواسع،ضلعی امیر مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان،سیکرٹری اطلاعات منظور الحق،عماد اکبر اور دیگر بھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہو گا۔ڈالر کی قیمت میں روز بروز اضافہ جبکہ روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے جو کہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ان پر قرضوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا لیکن آج حکومت ایک بار پھر آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر پاکستانی عوام کو مزید مقروض کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ احتساب سب کا ہونا چاہےئے پانامہ سیکنڈل میں جتنے بھی نام آئے ہیں ان سب کو پکڑنا چاہےئے۔قوم کے اصلی مجرم یہی ہے۔سراج الحق نے کہاکہ احتساب رات کے اندھیرے میں نہیں دن کی روشنی میں ہونا چاہےئے۔نوازشریف کے بعد 436افراد جن کے بارے میں پر اسرار خاموشی اختیار کی گئی ہے انہیں بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہےئے۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام میں تبدیلیوں سے قبل اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا چاہےئے۔ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی سے ترقی کا پہیہ رک جائے گا اور عوامی مسائل بڑھیں گے۔کلین اینڈ گرین پاکستان کا آغاز جماعت اسلامی نے الیکشن سے قبل کیا ہے اور جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ سب کا احتساب ہو۔انہوں نے کہاکہ حکومتی وزراء کے بیانات سے سیاست میں تناؤ اور الجھاؤ میں اضافہ ہو گا۔مدینہ کی ریاست بنانے کے لئے نعروں کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور اسکے لئے پہلا قدم سودی نظام کا خاتمہ ہونا چاہےئے۔

مزید : کراچی صفحہ اول