مہمند،ساگی بالا کے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں ،مشران

مہمند،ساگی بالا کے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں ،مشران

  



مہمند ( نمائندہ پاکستان) مہمند، ضلع مہمند ساگی بالا میں جو آفسوسناک واقعہ رونما ہوا ہم اُن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ واقعے میں مشران کے جرگے کے فیصلے کو نظر انداز کر کے مزید گھمبیر بنا دیا گیا۔ رسم و رواج کو بدنام کر کے لوٹ مار کر دیا گیا ہے۔ سیاسی لوگوں نے جذباتی تقریر کر کے عوام کو بھڑکادیئے ہیں۔ توڑ پھوڑ مہمند رسم و رواج میں ہر گز نہیں ہے۔ انتظامیہ نے بر وقت کاروائی کر کے مزید خون خرابے سے لوگوں کو بچائے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مہمند پریس کلب میں مہمند قومی مشران ملک فیاض ، ملک نصرت، ملک نادر منان، ملک عطاء اللہ، ملک صاحب داد، ملک امیر نواز،ملک اجمل، ملک زیارت گل، ملک نذیر خان، ملک ابراہیم، ملک عظیم خان و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ساگی بالا میں جو آفسوسناک واقعہ پیش آیا تھا ہم اُن کا بھر پور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سیاسی لوگوں نے ہمارے رسم و رواج کو بدنام کر کے لوٹ مار کر دیا ہے۔ حالانکہ اس واقعہ میں مشران نے جو فیصلہ کیا تھا اُس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا اور سیاسی لوگوں نے عوام کو بھڑ کا دیئے تھے۔ حالانکہ سیاسی لوگ تو قانون کے مطابق فیصلے پسند کرتے ہیں۔ اور رسم و رواج کے خلاف بار بار مطالبات کر کے ایجنسی کو ختم کر کے ضلع بنا دیا گیا ہے۔ مگر اب یہ لوگ ہمارے رسم و رواج کو بھی بدنام کر کے توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ اگر مشران کے جرگے پر عمل کیا ہوتا تو ہر گز یہ نقصان نہ ہوتا۔ اور نہ کوئی گرفتاری ہوتی۔ مگر بعض شر پسند عناصر نے ان کو ہوا دیکر ہمارے رسم و رواج کو بدنام کیا ہے۔ ہمارے جرگے میں انصاف بھی تھا اور رسم و رواج بھی تھی۔ مگر ان لوگوں کا نہ ہمارے رسم و رواج سے کوئی واسطہ تھا اور نہ امن و امان سے کوئی سروکار تھا۔ مگر انہوں نے اپنے مقاصد پورا کر کے مسئلے کو گھمبیر بنایا۔ ہم انتظامیہ کے ممنون ہے کہ انہوں نے بر وقت کاروائی کر کے مزید خون خرابے کو روک دیا ۔ مگر ہزاروں کی تعداد میں افراد کو کنٹرول کرنا کسی کی بات نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جرگے کے طور پر حوالا کرنے والے بے گناہ افراد کو اب جرگے ہی کے حوالے کیا جائے۔ ہم بھی شر پسندوں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فاٹا انضمام کو ختم کر کے سابقہ روایات کو برقرار کیا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر