پشاور کی سڑکوقں پر مختلف علاقوں کیلئے چلنے والی پرانی زمانے کی گاڑیوں کی بھرمار

پشاور کی سڑکوقں پر مختلف علاقوں کیلئے چلنے والی پرانی زمانے کی گاڑیوں کی ...

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاورکی سڑکوں پرمختلف علاقوں کیلئے چلنے والی پرانی زمانے کی گاڑیوں کی بھر مارہے،تبدیلی والی سرکار کے دورمیں بھی مسافربسوں,مزدوں اوردیگر مسافر گاڑیوں کی حالت زار بہتر نہ ہوسکی،قبائلی علاقہ باڑہ اور دیگر علاقوں کو جانے والے پرانے زمانے کی بسوں اور ویگنوں کی سیٹیں انتہائی گندی اوربس کی باڈی انتہائی کمزور ہیں،جبکہ گاڑیوں کی انجن ،بریک اور دیگرحصے درست طریقے سے کام نہیں کررہی، جو کسی بھی وقت ایک بڑے حادثے کا سبب بن بنیں گے ۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے ان حل طلب مسائل سے آنکھیں پھیر لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق دیگر ممالک نے کافی ترقی کرلی ہے تاہم پشاور کے شہری اب بھی کئی زمانے کی پرانی اور ناکارہ بسوں،ویگنوں اور دیگر گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبوہیں ،حکومتوں کی جانب سے عوام کی سہولت کی فراہمی اداروں اورنظام کی بہترکرنے کی بلند وبانگ دعوے تو کئے جارہے ہیں تاہم برسرقتدار آنے سے عوامی خدمت کوبھول کر دوسری سرگرمیوں میں سرکاری مشینری استعمال کیاجاتاہے ،اس کا انداہ اس سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ پشاور کی سڑکوں پر اب بھی کئی سالوں کی پرانی اور ناکارہ گاڑیاں چلنے لگی ہیں ،جسکی وجہ سے نہ صرف شہر میں آلودگی پھیلنے کا باعث بنتی ہیں بلکہ شہریوں کیلئے دردسربن چکی ہیں۔اور مختلف علاقوں کیلئے چلنے والی مسافر بسیں خستہ خالی کا شکار ہوگئی ہیں ،انکی سیٹیں ناکارہ ہے بلکہ باڈی بھی ختم ہوچکی ہے گاڑیوں میں چڑھنے اور اتر نے کے دوران بس کی باڈی سے مسافروں کے ہاتھ زخمی اور کپڑے پھٹنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے - ان گاڑیوں میں زیادہ تر،بورڈ بازار،کارخانومارکیٹ، باڑہ ،بڈھ بیر اور کوہاٹ روڈکیلئے چلنے والی ویگنیں اور بڑی گاڑیاں ہیں جو پشاور صدر اور نیو بس سٹینڈ پشاور سے چلتی ہیں تاہم ان کی جانب نہ تو محکمہ ٹرانسپورٹ اور نہ ہی دیگر دوسری حکومتی اداروں کے حکام نے توجہ دی ہیں اور ان گاڑیوں کو صرف ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ کیا جاتاہے تاہم دوسری جانب ان گاڑیوں کی اندرونی حالت انتہائی خراب ہے اور اس میں سفر کرنے والے مسافر وں خصوصاً خواتین کو بعض اوقات انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ سیٹوں سے نکلنے والے کیلوں کے باعث کپڑے پھٹ جاتے ہیں جبکہ ان بسوں کو چلانے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر ان چیزوں کی جانب توجہ نہیں دیتے- گذشتہ بیس سالوں سے ان روٹس پر چلنے والے ان گاڑیوں کی حالت کی بہتری کی جانب ابھی تک کسی نے بھی توجہ نہیں دی -

مزید : پشاورصفحہ آخر