بغیر ادویات کے توانائی کی لہروں سے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں:ڈاکٹر محمد علی خالد

بغیر ادویات کے توانائی کی لہروں سے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں:ڈاکٹر محمد علی ...

  



کراچی (رپورٹ /نعیم الدین)توانائی کی لہروں کے ذریعے پاکستان میں بھی مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے جس کے ذریعہ بغیر دوائی اور انجکشن کے مریض صحت یاب ہوسکتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار میڈیکل فریکوئنسی سینٹر کے سی ای او سنگاپور سے آئے ہوئے ڈاکٹر محمد علی خالدنے ایڈیٹر کلب کے پروگرام میٹ دی ایڈیٹر ایڈیٹر میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی اورحیدرآبادمیں ہمارے سینٹر ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں چل رہے ہیں ہم مشینوں کے ذریعے بائیولوجیکل ویب باڈی میں انٹروڈیوس کرتے ہیں اس طریقہ علاج سے جوبچے بو ل نہیں سکتے اور سن نہیں سکتے ان کی دونوں صلاحیت بحال ہو جاتی ہیں نابینا لوگوں کی آنکھوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے دل کے امراض شوگر اور بلڈ پریشر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اب تک بہت سے مریضوں کو فائدہ ہوا ہے انھوں نے بتایا کہ 15 سال سے ہم اس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اب تک ہمارے سینٹر سنگاپور ملائیشیا اور یورپ کے دوسرے شہروں میں کام کر رہے ہیں یہ ٹیکنالوجی 1923 سے شروع ہوئی تھی مختلف ادوار میں اس پر کام ہوتا رہا ہے انیس سو نوے کے بعد جب سے کمپیوٹر ایجاد ہوا ہے مائیکرو چپس کے ذریعے اس کو مزید ترقی ملی ہے . جرمنی اور یورپ کے کچھ ملکوں میں یہ طریقہ علاج رائج ہے ۔سنگاپور کی حکومت نے ہمیں اجازت دی ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ طریقہ علاج مفید ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ شوگر کا علاج مکمل طور پر کیا جا سکتا ہے البتہ فرق ضرور آئے گا اور شوگر لیول پر رہ سکتی ہے البتہ شوگر میں جو ہاتھ پاؤں سن ہوتے ہیں اس کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے انسولین کی پروڈکشن کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے کینسر جیسے موذی مرض کا علاج بھی ممکن ہے بریسٹ کینسر کے علاج میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے کراچی میں اس وقت ہمارے چار سینٹر کام کر رہے ہیں جو کے گلشن اقبال ،فیڈرل بی ایریا، بلاول چورنگی اور بہادر آباد میں کام کر رہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں بھی سینٹر کام کر رہے ہیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں بھی سینٹر کھولے جارہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے سینٹروں میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ز کام کر رہے ہیں جو کہ اس کام کے ٹرینڈ ہیں ہم ان کی تربیت کا انتظام کرتے رہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گردے کے امراض کا بھی علاج ممکن ہے ٹرانسپلانٹ والوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طریقہ علاج سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی مریض کو جوڑوں کے مرض کا علاج بھی موجود ہے جبکہ کمر کے درد کا علاج بھی ہمارے پاس ہے ڈیڑھ گھنٹے مریض کو مشین میں لیٹنا پڑتا ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک اور مشین دریافت کی ہے ۔یہ مشین آپ کے جسم پر فٹ کردی جائے گی جو آپ کے جسم میں بیماری کو تلاش کرے گی اور اس کو پانی کے اندر لائے گی اور پھر پانی پینے کے بعد یہ بیماری ختم ہوجائے گی ۔یہ مشین پاکستان میں اگلے ماہ ہم لے کر آرہے ہیں جاپان اور یوکرائن سے تعلق رکھنے والے میرے سائنسدان دوست اس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں ۔ اس موقع پر ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے کلب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی معروف کاروباری شخصیت راشد صدیقی کا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے کہا راشد صاحب تھنک ٹینک چلاتے ہیں اور ہمارے ساتھ ان کا تعاون ہمیشہ رہا ہے اور ہمارے ساتھ کئی پروگرام انہوں نے پلان کیے ہیں آج کا پروگرام بھی اسی کا ایک حصہ ہے ۔راشد صدیقی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹر کلب میں جو لوگ شامل ہیں ان کی بات معاشرے میں سنی جاتی ہے اس وقت ملک میں جو تبدیلی آرہی ہے اس میں سارا کردار انہی لوگوں کا ہے میں تو ان کا ایک سپاہی ہوں اس موقع پر ممتاز دانشور اور اینکر انیق حمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ایڈیٹر کلب کی اس محفل کو دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا ہوں کیونکہ ایسی محفلیں اب بہت کم ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ جو قوم کے مسیحا ہیں اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں یہ لوگ ہمارے ملک کے محسن ہیں ہمارا دین بھی اس کی پذیرائی کرتا ہے ہمیں ایسے لوگوں کو ہمیشہ آگے لانا چاہیے سوشل سائنس زیادہ آگے آنے چاہیے ۔للہ تعالی ذہنی جسمانی امراض کا خاتمہ کرے ۔ کراچی ایڈیٹرز کلب کے سیکرٹری منظر نقوی نے ڈاکٹر محمد علی خالد کی خدمات کو سراہا ہے ۔پروگرام کے اختتام پر آغا مسعود نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر