ماضی میں قدرتی آفات سے ملک شدید نقصان پہنچا، عبدالکریم خان

ماضی میں قدرتی آفات سے ملک شدید نقصان پہنچا، عبدالکریم خان

  



پشاور(پ ر)سیکرٹری محکمہ ریلیف ، بحالی و آبادکاری اسد علی خان کے ہدایات کی روشنی میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، خیبر پختونخوا نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور سنٹر فار ڈیزاسٹر اینڈ پر پیپئر ڈنس مینجمنٹ (سی ڈی ایم اے) پشاور یونیورسٹی اور کئیر انٹر نیشنل کے باہمی اشتراک سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں نے قدرتی آفات سے آگاہی کے قومی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں پی ڈی ایم اے اور سی ڈی پی ایم اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اساتذہ ، افراد باہم معذور (اسپیشل پرسنز) اور طلباء نے بری تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد عوام میں آفات سے متعلق شعور اور آگاہی پیدا کرنا اور آفات سے بچاؤ کے لئے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انڈسٹریز عبدالکریم خان تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی عبدالکریم خان نے کہا کہ پاکستان ماضی میں شدید قدرتی آفات سے دو چار ہوا جس کی وجہ سے شدید نقصانات ہوئے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پشاور یونیورسٹی کے سنٹر (سی ڈی پی ایم) اور پی ڈی ایم اے کی کاوشیں نہایت قابل تحسین ہے۔اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہم زیادہ سے زیادہ کوششیں کریں۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے معتصم بااللہ شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں موسمیاتی تغیر اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے قدرتی آفات کا سامنا ہے۔ آفات کے نقصانات کو کم کرنے سے معاشی اور سماجی استحکام لایا جا سکے گااور ممکنہ آفات سے متاثرہ علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبوں میں آفات کے خطرات کو ملحوظ نظر رکھ کر حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد گار ثابت ہونگے۔ انہوں نے اس خمن میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے اقدامات کے مطلق سامعین کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے نے سیلاب 2010کے نقصانات کے آزالے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کیلئے بہت کام کیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے عظیم قومی سانحے نے نہ صرف ہمیں انسانی ضیاع سے دو چار کیا بلکہ ملکی معشیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ اکتوبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں انسانی ضیاع کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر زلزلے میں جاں بحق افراد کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔پشاور یونیورسٹی کے قدرتی آفات کے ڈائریکٹر مشتاق احمد جان نے کہا پشاور یونیورسٹی طلباء کو چار سالہ بچلر ڈگری ، ماسٹر ڈگری ، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی تعلیم مہیا کر رہا ہے جس میں آگاہی ، تیاری ، تحقیق اور استعداد کار برہانے جیسے اموار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہیں۔ جس سے یقیناًصوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے ہونے والے ممکنہ نقصانات میں بری حد تک شعور اجاگر ہو گا۔ تقریب میں افراد باہم معذور (اسپیشل پرسنز) نے خصوصی طور پر ملی نغمے اور قدرتی آفات سے متعلق ٹیبلوز پیش کئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوانے عوام کی رہنمائی کیلئے آگاہی مہم سے آغاز کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی خصوصی ٹیمیں پشاور کے مختلف علاقوں میں اس مہم کے ذریعے عوام کو قدرتی آفات خصوصاََ زلزلے ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے بارے میں اختیاطی تدابیر کے حوالے سے معلومات فراہم کر رہی ہیں، آگاہی مہم کے دوران عوام میں اختیاطی تدابیر پر مبنی پوسٹرز اور پمفلٹس تقسیم کئے جا رہے ہیں ۔اسی طرح پی ڈی ایم اے کا جینڈر اینڈ چائلڈ سیل قدرتی آفات کے دوران معذور بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی حفاظت کے حوالے سے ورکشاپس بھی تسلسل سے منعقد کروا رہی ہیں۔اس مہم میں حساس اضلاع میں قدرتی آفات کے حوالے سے اختیاطی تدابیر پر مبنی پوسٹرز اور پمفلٹس تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عوام کی آگاہی کیلئے ریڈیو پر معلوماتی پیغامات بھی متواتر کے ساتھ نشر کئے جارہے ہیں اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء اور طلباء کی جانب سے یونیورسٹی میں قدرتی آفات سے متعلق آگاہی واک کی گئی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر