تفتان بارڈر زائرین کے مسائل تر جیحاً حل کیے جائیں، علامہ قمرزیدی

تفتان بارڈر زائرین کے مسائل تر جیحاً حل کیے جائیں، علامہ قمرزیدی

راولپنڈی ( سٹی رپورٹر)قائدملتِ جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق شہادتِ حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے عشرہ شہیدہِ زنداں کے سلسلے میں امامبارگاہوں اور عزاخانوں میں مجالس عزا اور پرسہ داری کے پروگرام آج بھی عقید ت و احترام کے ساتھ جاری رہے ۔علماء ،ذاکرین ،واعظین و ذاکرات نے کردارِ دختر شبیر ؑ پر روشنی ڈالی ۔ سیدجعفر زیدی کی رہائشگاہ نزد محمد ی مسجد نیوکٹاریاں راولپنڈی میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سیدقمرحیدرزیدی نے کہاکہ سیرت حضرت سکینہ دنیائے اطفال کیلئے کلید نجات و سعادت و فلاح ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر علی ؑ و حسین ؑ نہ ہوتے تو اسلام کا پیغام بند ہوچکا ہوتا جسے اولادِ رسول ؐ نے اپنا خون دیکر ابدی حیات عطا کی۔انہوں نے یہ بات زوردیکر کہی کہ پاکستان کی بقا و ارتقا راہ کربلا اختیار کرنے میں ہی مضمر ہے ۔ علامہ قمرزیدی نے کہاکہ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ پررکھی گئی جس کی حفاظت کیلئے بنائے لاالہ سید الشہداء امام حسین ؑ کی راہ اختیار کرنا ہوگی کیونکہ حسینیت اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کا نام ہے جرات وطاقت کا نام ہے ۔انہوں نے کہا کہ میدان کربلا میں امام حسین ؑ کے اہل خاندان اور اصحاب باوفا میں مکمل ہم آہنگی تھی معصوم علی اصغر و شہزادی سکینہ بنت الحسین ؑ سے لے کر علی اکبر وعباس سے جوانوں اوربزرگ صحابہ حبیب ابن مظاہرؓ و مسلم ابن عوسجہ تک سبھی ہم فکر تھے پاکستان کے استحکام اور دوام کیلئے بھی تمام اداروں کو ہم آہنگ ہو نا ہوگا اگر ایسا ہوگیا تو کوئی طاقت پاکستان کی تعمیر و ترقی کا راستہ نہیں روک سکے گی ۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ تفتان بارڈر پر زائرین کے مسائل آمد و رفت کو تر جیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے باور کروایا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا حسینی شعار اور دنیا کے تمام مظلومین اور عالم اسلام کے مسائل کا حل راہ حسینیت ؑ میں مضمر ہے ۔انہوں نے کہا کہ حضرت سکینہؑ نے بعدِ شہادتِ امام حسین ؑ خانوادہ اہلبیت ؑ کے ہمراہ کوفہ و شام کے زندانوں اور یزیدو ابن زیاد کے درباروں میں مقصدیتِ حسین ؑ کو سربلند رکھا اور ایسا مثالی کردار ادا کیا کہ نام یزید داخل دشنام ہوگیا اور اسی دوران آپ ؑ زندانِ شام میں جام شہادت نوش فرما گئیں۔اختتام مجلس تابوت بیمارکربلابرآمدہواجسمیں علاقہ بھرکی ماتمی دستوں نے ماتمداری کی ۔امام بارگاہ زین العابدین ؑ میں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالروخطیبہ طاہرہ بتول حیدری نے چارسالہ معصومہ سکینہ بنت الحسین ؑ کی قیدخانے میں شہادت نے یزیدی آمریت کی بنیادیں ہلا دیں،انہوں نے کہا کہ امام عالی مقام ؑ کی عظیم قربانی قیام حسینی کی بقاء اور ملت مسلمہ کی فلاح کی ضامن بن گئی۔انہوں نے کہاکہ سیرت حضرت سکینہ دخترانِ ملتِ کیلئے مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت سکینہ بنت الحسین وہ پاکیزہ بی بی ہیں جنہوں نے بعدِ شہادتِ امام حسین علیہ السلام خانوادہ اہلبیت ؑ کے ہمراہ کوفہ و شام کے زندانوں اور یزیدو ابن زیاد کے درباروں میں مقصدیتِ حسین ؑ کو سربلند رکھا اور ایسا مثالی کردار ادا کیا کہ اسلام ہمیشہ کیلئے سربلند و سرفراز ہو گیا۔ مجلس سے جدوہ حیدرزیدی اورتسمیہ جابرنے بھی خطاب کیا۔ انجمن کنیزان امام العصروالزمان کے زیراہتمام شعیب ابیطالب ؑ میں مجلس شہیدہ زنداں سے آپاسیدہ حسین نے خطاب کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر