اقتدار ، فرعونیت اور انصاف

اقتدار ، فرعونیت اور انصاف
اقتدار ، فرعونیت اور انصاف

  

گردنوں میں سریوں کی باتیں کرنے والے اب اقتدار کی رتھ پہ سوار ہیں تو کچھ رویے بھی جارحانہ ہوگئے ہیں۔ بات کیچڑ اچھالنے کی ہو یا نیچا دکھانے کی 150 مسئلہ قومی ہو یا ذاتی ،ایک ماضی ہے جس کے تیر پیوست کرتے ہم سب باہمی یکجہتی اور ایک ساتھ چلنے کے اطوار سے نابلد شاید وہ شترِ بے مہار بن چکے ہیں کہ ہمیں اچھے بھلے کی خبر نہیں، بس جو ہماری طاقت کے سامنے آیا ہم کوئی پرواہ کئے بغیرروندھتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کی طرف سے آئے روز غیر مہذب اور غیر اخلاقی گفتگو کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ جمہوریت کے حسن سے شروع ہوتا ہے اور اس کے حسن کے تانے بانے بکھیرتا کچھ ایسے ختم ہو جاتا ہے کہ خدا کی پناہ، ویسے بھی اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

باتیں اسمبلی کے ایوانوں سے ہوتیں گھروں تک جا پہنچی ہیں ۔ مگر موجودہ وقت میں جو صورتحال ہے پہلے نہیں تھی۔ اس وقت غیر مہذب سیاسی گفتگو کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پہ دیکھیں تو اطراف کے میڈیا سیل یوں کام کر رہے ہیں کہ پگڑیاں اچھال رہے ہیں 150 ایسا لگتا ہے کہ بات اس نہج پہ پہنچ گئی ہے کہ ان میں پاکستانیت کا تصور کوسوں دور اور ذاتی انا حاوی نظر آتی ہے۔سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں طنز کے تیر چلاتی ہیں۔ دنیا میں سیاسی رہنماؤں کی باتیں صدیوں تک یاد رکھی جاتی ہیں اور ان کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں ۔ ان حالات میں میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں ہمارے سیاسی رویوں اور بہتان طرازیوں پہ ہمیں معاف کر سکے گی۔

باتیں خاتونِ اوّل سے حزبِ اختلاف تک پہنچتی ہیں تو دلوں کو دکھاتی ہیں۔بات جناب شہباز شریف کی گرفتاری کی ہو تو اس پہ داغے گئے پنجاب اور وفاقی وزراء اطلاعات و نشریات کے بیانات میں پائے جانے والے تضادات سوچ کی ہم آہنگی میں فقدان اور اس عجلت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جو شاید سیاسی سکور کو برابر کرنے میں روا رکھے گئے ہیں ۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ جنوبی پنجاب سے منتخب وزیر اعلیٰ ہمارے پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن ان کے پیچھے بھی ہم ہاتھ دھو کر پڑے ہیں 150 وہ چیزیں جو ہم در خورِ اعتنا سمجھتے تھے ان پہ ہمارے تحفظات شاید ضرورت سے زیادہ ہی ہیں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ وہ نئے ہیں غلطیاں بھی کریں گے لیکن کیا ان غلطیوں سے وہ سبق نہیں سیکھیں گے کہاں ممکن ہے 150 یہاں تو گردنوں میں سریوں والے عدالت کے شاباش نہ دینے پہ گرجنے یا شاید برسنے کے موڈ میں تھے لیکن وزیر اعلیٰ صاحب تو معافی خواستگار نظر آئے ہیں اور عندیہ دیا کہ قانون ان کے متعلق جو بھی فیصلہ کرے گا وہ اپنا سر جھکائیں گے کیونکہ سر جھکانا اس سے پہلے اشرافیہ نے کب سیکھا تھا ۔

ہمارے پنجاب کے ایک نامور وزیر جن کا بیٹا ان کی نامی کار سے پکڑا گیا اور پھر جو اس کا تقاضا تھا اشرافیہ نے پولیس کانسٹیبل سے کیا 150 پرچہ کٹا اور پسرِ بے مایہ فرار ہوئے اور اب شاملِ تفیش ہیں۔ پرانے پاکستان میں جو کچھ اس تفتیش کا ہوتا تھا شاید نئے پاکستان میں بھی اس کا کچھ نہ بدلے گا۔ بات بات پہ اپنی حزبِ اختلاف کو کوسنے والے اب بھی جہاں موقع ملتا ہے اسے کوسنے میں ہی مشغول نظر آتے ہیں۔ خزانے کا کیا حال تھا اور درپیش مسائل کی کیا گھمبیرتا تھی اس سے آپ بھی واقف تھے اور قوم بھی 150 اسی لئے تو قوم نے آپ کے ساتھ مل کر ان کا احتساب کیا اور آج وہ پنجاب جسے ان کا تختِ لاہور کہا جاتا تھا سے اتر کر وہ احتساب کے اداروں کو جوابدہ ہیں لیکن شاید آپ کے اندر کا غیض و غضب ہی ختم نہیں ہوتا 150 یہ اب آپ کا کام نہیں ہے کہ اس پہ اپنے ایسے بیانات داغیں کہ جن سے جانبداری کی بو آئے 150 ان سے ادارے نبٹ رہے ہیں اچھا ، برا یہ ملکی ادارے ہیں انہیں اپنا کام کرنے دیجئے اور ان اداروں کا ایک نمائندہ انہیں تفویض کر دیجیئے جو عوام کو بھی ہوتی پیش رفت سے آگاہ رکھیں 150 آپ اپنا کام کیجیئے 150 دن میں کئی کئی پریس کانفرنسز تو مخالف کیا کرتے ہیں 150 آپ اپنا کام کیجیئے اور کام سے جواب دیجیئے۔ آپ کی تنی گردن ، لہجے کی سختی اور الفاظ کے چناؤ سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شاید سریا بھی اپنی منتقلی کے مراحل میں ہے۔ سڑکوں پہ مار پیٹ۔ تھانے ، کچہری پہ اثرا نداز ہوتے آپ کے حمایت یافتگان۔ قبضہ مافیا میں ان کے آتے نام۔ رسہ گیری کرتے نمائندگان سٹیج پہ کام کرنے والی فنکاراؤں کے متعلق آپ کا حسنِ ظن نہیں صاحب نئے پاکستان کے خواب میں یہ تو آپ نے ہمیں نہیں دکھایا تھا۔ آپ نے تو مسائل اور ان کے حل کے لئے اپنی تیاری اور چابکدستی کے نعرے لگائے تھے تو اب سامنے مسائل کے پہاڑ دیکھ کر چیخیں کیوں۔ اقتدار آپ کے گلے میں کسی نے زبردستی تو نہیں ڈالا تھاکہ آپ کو وہ ڈھول ہی بجانا ہے جو سر پڑ چکا ہے۔ آپ نے تو ایک طویل جدوجہد کے بعد اس کو حاصل کیا تھا۔

ایک دفعہ اپنی تربیت کے اوائل میں میں اپنے گورے استاد صاحب کو بتا رہا تھا کہ اِس نے یہ کیا اور پر اْس نے وہ کیا 150 وہ جہاندیدہ بندہ مجھ سے کہنے لگا کہ دوسروں پہ دھرا جانے والا کوئی الزام کبھی تمہارے عیب اور ذمہ داری میں تمہیں نہیں چھپائے گا 150 مجھے اس سے سروکار نہیں کہ دوسروں نے کیا کیا ۔مجھے تو اس سے مطلب ہے کہ تم نے کیا کیا۔ کمزور اور کوتاہ فہم دوسروں کی خامیاں اور کامیاب انسان اپنی خوبیاں دکھاتا ہے 150 میں نے اس کی کہی بات آج تک پلے باندھ لی اور آج وہ نسخہء کیمیا میں آپ کے بھی گوش گذار کر رہا ہوں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے دنیا میں حکومت کی اور آپ کے لئے اپنی زندگی نمونہ چھوڑی جس میں ریاستِ مدینہ میں جاری قول آج بھی مشعلِ راہ ہے کہ حکومتی ذمہ داریاں کندھے جھکا دیا کرتی ہیں ایسے میں تنے سینے اور گردنیں شاید وہ محبوب طریقہ نہیں جو کامیابی کی ضمانت ہو۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ