فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر533

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر533
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر533

  

عصمت چغتائی اور نذیر صاحب کی پہلی فلم کامیڈی تھی۔ اس کا نام سن کر آپ ہنسنے لگیں گے۔ اس کا نام تھا (SWEET DIE) ’’سوئٹ ڈائی عرف چھیڑ چھاڑ‘‘ تھا۔ کئے۔ کیسا نام ہے؟ اس زمانے میں اس طرح کے نام رکھنے کا رواج تھا مگر تعجب یہ ہے کہ عصمت چغتائی جیسی روایت شکن مصنفہ اس نام پر کیونکر رضا مند ہو گئیں؟

یہ فلم 1943ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس کے گیت تنویر نقوی نے لکھے تھے جو اس زمانے میں بمبئی ہی میں تھے۔ اس کے فلم ساز تو خود نذیر صاحب تھے لیکن ہدایت کاری کے فرائض امرناتھ نے سرانجام دیئے تھے۔ نذیر صاحب کے فلم ساز ادارے ’’ہند پکچرز‘‘ کی طرف سے یہ فلم بنائی گئی تھی۔ اس کے ہیرو نذیر صاحب تھے اور ہیروئن ستارہ تھیں۔ ستارہ غضب کی ڈانسر بھی تھیں اور اپنی بے باکی کے حوالے سے بدنامی کی حد تک مشہور تھیں۔ سنا ہے کہ اس زمانے میں ستارہ اور نذیر صاحب کے مراسم بھی تھے۔ اس کے دوسرے اداکاروں میں مشہور مزاحیہ اداکار گوپ، راج کماری اور مجید بھی شامل تھے۔ مجید صاحب بعد میں پاکستان آ گئے تھے۔ انہوں نے چند فلموں میں بھی کام کیا تھا پھر لاہور سے کراچی چلے گئے اور کچھ عرصے بعد انتقال کر گئے۔ بہت شریف، نیک اور شائستہ انسان تھے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں ساری زندگی فلمی دنیا میں گزار دینے والے لوگ بھی کتنے مہذب اور وضع دار ہوتے تھے۔

عصمت چغتائی کو اس فلم کی کہانی لکھنے کا معاوضہ تین ہزار روپے ملا تھا جو ان کے لئے بہت بڑی رقم تھی۔ ظاہر ہے کہ افسانہ نویسی کے ذریعے اس زمانے میں انہوں نے سالوں میں بھی تین ہزار نہیں کمائے ہوں گے۔ نذیر صاحب نے ایک ہزار روپیہ انہیں ایڈوانس کے طور پر دیا اور باقی رقم اسکرپٹ مکمل ہونے پر ادا کر دی۔ اس زمانے کے حساب سے تین ہزار روپے یوں بھی کافی معقول رقم تھی۔ جو عصمت چغتائی نے ایک دو مہینے میں کما لی۔ تب انہیں احساس ہوا کہ ادب کے مقابلے میں فلم کتنی فائدہ مند چیز ہے اور اسی لئے دوسرے بڑے بڑے نامور ادیب اور شاعر کشاں کشاں ادبی دنیا سے منہ موڑ کر فلمی دنیا کی راغب ہو رہے ہیں۔ ان کی پہلی فلم نے اوسط درجے کا بزنس کیا تھا۔ اس کو نہ تو سپر ہٹ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی فلاپ۔ بہرحال ایک نئے فلمی مصنف کی حیثیت سے یہ ایک اچھا اور حوصلہ افزا آغاز تھا۔ اس زمانے میں گانوں کے ریکارڈ بنائے جاتے تھے اور ہر گیت کے ریکاکرڈ بھی نہیں بنتے تھے۔ فلم ’’چھیڑ چھاڑ‘‘ کے صرف ایک گانے کا ریکارڈ بنایا گیا۔ اس فلم کے کچھ گیت ایک فلمی شاعر رجن نے بھی لکھے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر532 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس فلم کی نمائش کے بعد عصمت چغتائی بچی کی ولادت کے باعث کچھ عرصے تک فلمی دنیا سے دور رہیں۔ اس دوران میں یہ المیہ ہوا کہ بمبئی ٹاکیز، نامور فلم ساز ادارہ اس کے مالک ہمنسو رائے کی وفات کے باعث افراتفری کا شکار ہو گیا۔ ہمنسو رائے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بے حد ذہین آدمی تھے۔ مشہور اداکارہ دیویکا رانی کے شوہر بھی تھے۔ اس ادارے نے ہمیشہ تعلیم یافتہ لوگوں کی سرپرستی کی تھی اور ہر شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے نامور فنکاروں کو بمبئی ٹاکیز نے جنم دیا اور شہرت سے مالا مال کر دیا۔

اشوک کمار گنگولی کی مثال دیکھ لیجئے۔ یہ سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لیبارٹری میں ملازم ہوئے تھے مگر ہمنسو رائے اور ان کی فنکارہ بیگم نے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا اور انہیں فلم کا ہیرو بنا دیا۔ اشوک کمار نہ صرف اس وقت کے بلکہ اس کے بعد کے زمانے کے بھی عظیم اداکاروں کی صف میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جنہیں لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ اشوک کمار کی داستان مختصر طور پر پہلے بیان کی جا چکی ہے۔

بمبئی ٹاکیز وقتی طور پر بند ہو گیا تھا اس لئے اس سے متعلق افراد بھی پریشانیوں کا شکار تھے۔ اس زمانے میں سب لوگوں کو تنخواہوں پر ملازم رکھا جاتا تھا۔ حالات کی وجہ سے شاہد لطیف کی نوکری بھی چلی گئی جس کی وجہ سے وہ بے حد پریشان تھے۔ کوئی اور کام ملتا نہیں تھا۔ ویسے بھی وہ ہر ایک فلم ساز کے پاس کام حاصل کرنے کی درخواست لے کر جانا کسر شان سمجھتے تھے۔

عصمت چغتائی کی پہلی فلم کامیڈی تھی جسے خاصی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ ایک کامیڈی فلم کی کہانی تیار کی جائے۔ دونوں میاں بیوی تیار تھے۔ عصمت چغتائی نے یہ آئیڈیا دیا کہ ان کے بھائی عظیم بیگ چغتائی کی کہانیوں سے فلم کی کہانی اخذ کی جائے۔ چنانچہ عظیم بیگ چغتائی کی تین مقبول کہانیوں کو یکجا کر کے ایک فلم کی کہانی بنائی گئی۔ 

عصمت چغتائی نے یہ کہانی مکمل کرنے کے بعد شاہد لطیف کو سنائی تو انہیں بہت پسند آئی۔ وہ فلمی صنعت کے لوگوں کو جانتے تھے۔ پونا کے ایک فلم ساز ادارے کے مالک کو انہوں نے یہ کہانی سنائی تو انہوں نے بھی بہت پسند کیا۔ فلم کا نام ’’شکایت‘‘ تجویز کیا گیا تھا اور یہ عظیم بیگ چغتائی کی تین انتہائی مزاحیہ کہانیوں کو ملا کر تیار کی گئی تھی۔ جب سیٹھ نے یہ کہانی سنی تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا اور اس فلم کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس طرح عصمت چغتائی کی دوسری فلم ’’شکایت‘‘ کاآغاز ہوا۔ شاہد لطیف کو اس کی ہدایت کاری کے فرائض سونپے گئے۔ انہوں نے اس سے پہلے صرف کہانیاں لکھی تھیں۔ ہدایت کاری کا انہیں کوئی تجربہ نہیں تھا مگر خود اعتمادی کی بنا پر انہوں نے سیٹھ کی یہ پیش کش فوراً قبول کر لی۔ اس طرح شاہد لطیف کی ہدایت کاری کا آغاز ہوا۔ ’’شکایت‘‘ ہدایت کار کی حیثیت سے ان کی پہلی اور مصنفہ کی حیثیت سے عصمت چغتائی کی دوسری فلم تھی۔

اس فلم کی بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی گئی اور نامور فنکاروں کا انتخاب کیا گیا۔ اس فلم میں ہیرو کے طور پر شیام کا انتخاب کیا گیا۔ ان کے ساتھ نگار سلطانہ ہیروئن تھیں۔ مزاحہ اداکار آغا کے علاوہ معروف اداکارہ سنہا پربھا بھی اس کی کاسٹ میں شامل تھیں۔ اس وقت کے دیگر اچھے معاون فنکار بھی اس میں اداکاری کر رہے تھے۔ رشید عطرے صاحب نے اس کی موسیقی مرتب کی تھی۔ رشید عطرے لاہور سے بمبئی گئے تھے اور ادیبوں اور شاعروں کی محفلوں میں شریک رہا کرتے تھے۔ کرشن چند، سعادت حسن منٹو، نخشب جارچوی وغیرہ سے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود انہیں کہانی اور نغمات کا شعور تھا۔ اس فلم کے نغمات نخشب جارچوی، جاں نثار اختر جیسے شاعروں نے لکھے تھے۔ اس وقت کے رواج کے مطابق دیگر شاعروں کے نغمات بھی اس میں شامل تھے۔ ابھی یہ دستور نہیں ہوا تھا کہ ایک فلم کے تمام نغمات ایک ہی شاعر سے لکھوائے جائیں۔

عصمت چغتائی نے ہی اس فلم کے مکالمے بھی لکھے تھے مگر کئی مناظر میں عظیم بیگ چغتائی کے تحریر کردہ برجستہ مکالمے بھی شامل کر لئے تھے۔ شاہد لطیف کی ہدایت کار کے طور پر یہ پہلی فلم تھی۔ عصمت چغتائی کو بھی فلمی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی خواہش تھی اس لئے دونوں میاں بیوی نے اس فلم کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے دل و جان سے محنت کی تھی مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔

جب فلم ریلیز ہوئی تو ناکام ہو گئی۔ یہ فلم 1948ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔ فلم کی موسیقی اور نغمات اچھے تھے لیکن خالص کامیڈی شاید فلم بینوں کو پسند نہیں آئی۔ وہ ڈرامے سے بھرپور فلمیں دیکھنے کے عادی تھے جس میں رونا دھونا بھی ہو اور المناک مناظر اور گانے بھی نظر آئیں۔ ہمیں یہ فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہو سکا مگر رشید عطرے صاحب کا کہنا تھا کہ ایک اچھی فلم تھی مگر خالص مزاحیہ فلم ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔ ہم نے ان کی اس بات پر بھروسہ کر یا کیونکہ خود ہم بھی ایسے ہی تجربے سے گزر چکے تھے۔ ہماری پہلی کہانی پر بنائی جانے والی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ کا بھی یہی انجام ہوا تھا جو شروع سے آخر تک مزاحیہ تھی اور فلم دیکھنے والے ہنستے ہنستے کرسیوں سے نیچے گر جاتے تھے۔

ہمارے خیال میں یہ بہت بڑی کامیابی تھی مگر فلم کا پہلا شو ختم ہونے کے بعد پتا چلا کہ فلم کامیاب قرار نہیں پائی۔ ہم صنوبر سینما کے سامنے بذات خود موجود تھے اور فلم دیکھ کر باہر نکلنے والوں سے فلم کے بارے میں ان کی رائے دریافت کر رہے تھے۔ اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ کسی بھی فلم کے پہلے شو کے خاتمے پر باہر قطار میں کھڑے ہوئے تماشائی سینما کے اندر سے برآمد ہونے والوں سے فلم کے بارے میں ان کی رائے پوچھتے تھے۔ اگر وہ تعریف کر دیں تو پھر ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے کھڑکی پر دھکم پیل شروع کر دیتے تھے لیکن اگر تعریف کی بجائے برائی کر دیں تو پھر قطار میں کھڑے ہوئے تماشائی دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو جاتے تھے۔ کم از کم لاہور میں تو یہی دستور تھا اور کسی حد تک آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

ہم نے ایک شخص سے پوچھا ’’کیوں بھئی۔ تمہیں فلم پسند کیوں نہیں آئی؟‘‘

کہنے لگا ’’بابو جی۔ بس ہسا ہی ہسا ہے۔ اشٹوری وشٹوری کچھ نہیں ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ فلم ’’شکایت‘‘ میں بھی ہنسی مذاق ہی تھا۔ کوئی درد ناک کہانی اور المناک واقعات نہیں تھے اس لئے عصمت چغتائی، شاہد لطیف اور رشید عطرے کی کاوشوں کے باوجود یہ فلم کامیاب نہیں ہو سکی۔

’’شکایت‘‘ کی فلم بندی پونا میں ہوئی تھی۔ یہ بھی ایک فلمی مرکز تھا۔ ڈبلیو زیڈ احمد نے اپنا ’’شالیمار اسٹوڈیوز‘‘ بھی پونا ہی میں بنایا تھا۔ وہاں بمبئی کے فلم ساز بھی شوٹنگ کے لئے جایا کرتے تھے مگر پونا کو ایک ممتاز فلمی مرکز کی حیثیت کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ ان دنوں وہاں ایک فلم اکیڈمی بھی ہے جس سے فارغ التحصیل ہونے والے بھارتی فلمی صنعت کے مختلف شعبوں میں نمایاں ہیں۔ بمبئی والے، خصوصاً مرہنی لوگ پونا کو پونے کہتے ہیں۔

’’شکایت‘‘ میں سبھی نغمات بہت اچھے تھے۔ خاص طور پر جاں نثار اختر کے لکھے ہوئے یہ نغمے۔

اور کوئی رات بھر گاتا رہا

تیرا ملنا مجھ کو یاد آتا رہا

مرے لیے نہ مرے دل کی آرزو کے لئے

چلے بھی آؤ محبت کی آبرو کے لئے

اور نخشب کا تحریر کردہ نغمہ:۔

ان کی صورت جس نے دیکھی دیکھ کے گھبرا گیا

’’شکایت‘‘ کی تکمیل اور ناکامی کے بعد شاہد لطیف اور عصمت چغتائی بمبئی واپس آ گئے۔ ایک فلم کی ناکامی کا داغ لگ چکا تھا اس لئے فلم سازوں میں مانگ نہیں تھی۔ اس دوران میں بمبئی ٹاکیز کی باگ ڈور نئے لوگوں نے سنبھال لی تھی جن میں اشوک کمار بھی شامل تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر534 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ