دفتروں میں جماعت کا اہتمام

دفتروں میں جماعت کا اہتمام
دفتروں میں جماعت کا اہتمام

  



مختلف احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ جماعت کی نماز فرد کی نماز سے کئی گنا افضل ہے۔ عام طور پر اس فضیلت کو مسجد کی نماز سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ مسجد میں پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہے اور مسجد کی طرف بڑھنے والے ہر قدم پر ایک الگ نیکی کا ثواب ہے۔ اس لیے مسجد میں نماز پڑھنے کو ہی ترجیح حاصل ہے ، مگر ہر وقت نہ مسجد جانے کا موقع ہوتا ہے اور نہ بعض حالات میں یہ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ گھر ہو یا دفتر وہیں جماعت کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ اس جماعت کو بھی انفرادی نماز پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے۔

جماعت کی یہ فضیلت اپنے اندر بڑی حکمت رکھتی ہے۔ نماز ایک لازمی دینی فریضہ ہے جس کو ترک کرنے پر سخت ترین وعیدیں ہیں۔ جماعت کی نماز کی فضیلت اہل ایمان میں تحریک پیدا کرتی ہے کہ وہ نماز کے وقت تنہا نماز نہ پڑھیں ، بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی نماز میں شریک کر کے ایک جماعت بنانے کی کوشش کریں۔ وہ کسی بے نمازی کو دیکھیں تو اسے بھی نماز ادا کرنے کی دعوت دیں۔

اسی طرح گھروں اور دفاتر میں موجود بے نمازی جو شاید تنہا نماز پڑھنے میں سستی محسوس کرتے ، جماعت کو دیکھ کر اپنے اندر نماز پڑھنے کا ایک اضافی داعیہ محسوس کرتے ہیں۔ اکثر یہ مشاہدہ ہے کہ جماعت کی اس برکت سے لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی یا ان کی دعوت پر نماز ادا کر لیتے ہیں اور یہی چیز بتدریج ان میں نماز کی پابندی کرنے کی عادت کا سبب بن جاتی ہے۔

یوں جماعت کا تصور اور اس کی فضیلت دراصل مسلمانوں کے معاشرے میں نماز کو ایک تحریک اور تہذیب کی طرح عام کر دیتی ہے۔ یہ فضیلت نیکی کے فروغ اور خداپرستی کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس لیے ہر نمازی کو جماعت سے نماز پڑھنے کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے اور مجبوری کے سوا کبھی تنہا نماز نہیں اد ا کرنی چاہیے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ