” یہ فلم دیکھیں تو ۔۔۔“ چیف جسٹس نے کونسی فلم دیکھنے کا مشورہ دیدیا ؟ آپ بھی جانئے

” یہ فلم دیکھیں تو ۔۔۔“ چیف جسٹس نے کونسی فلم دیکھنے کا مشورہ دیدیا ؟ آپ بھی ...
” یہ فلم دیکھیں تو ۔۔۔“ چیف جسٹس نے کونسی فلم دیکھنے کا مشورہ دیدیا ؟ آپ بھی جانئے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس نے ملک میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دورانایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ میں کچی آبادی پر قانون موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مجھے سندھ میں کچی آبادیاں دکھائیں، شرط یہ ہے کہ آپ کا وزیر اعلیٰ میرے ساتھ جائے گا، یا کہہ دیں کہ کچی آبادی والے کیڑے مکوڑے ہیں،یا کہہ دیں کچی آبادی والوں کے بنیادی حقوق نہیں ہیں، ہچکی فلم دیکھیں معلوم ہوگا کہ غریبوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ، ہچکی فلم میں کچی آبادی والوں کی زندگی کی عکاسی ہے،لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات صوبوں کو بھجوائی جائیں،صوبائی حکومتیں 4 ہفتوں میں جواب جمع کرا دیں۔

سپریم کورٹ میں ملک بھر میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران بلوچستان میں کچی آبادیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچی آبادیوں میں سہولتیں دینا حکومت کا کام ہے اور اگر ہٹانا مقصود ہے تو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دیں ۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سے کچی آبادیاں ہٹانے پر تجاویز دے دیں ۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہناتھا کہ آپ نے ابھی تک اسلام آباد میں کچی آبادیوں کا ڈیٹا نہیں دیاجس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آپ نے چیرمین سی ڈی اے کو کہا تھا کہ رپورٹ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچی آبادیوں میں بہت نقص ہے،کچھ نہ کچھ تو ہونا چاہیے، وزیر اعظم سے کہیں کہ ٹائم رکھیں کچی بستیاں دیکھنے چلتے ہیں،دیکھیں کہ وہاں کیا حالت زار ہے، میں تو لاہور میں کچی بستیاں دیکھ آیا ہوں انھیں کہیں جا کر حالت دیکھیں۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچی آبادیوں کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا،وزیر اعظم نے 50 لاکھ گھروں کا اعلان کیا ہے ۔ جسٹس ثابق نثار نے کہا کہ وزیراعظم خود جا کر کچی آبادی والوں کی حالت دیکھیں،وزیراعظم اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں،مجھے وقت بتادیں ساتھ جا کے دیکھ لیتے ہیں،کبوتروں کا پنجرہ بنایا جائے تو بھی دیکھا جاتا ہے کتنے کبوتر آئیں گے۔ ایڈینشل ایڈو کیٹ جنرل نے کہا کہ ہم نے پشاور میں کچی آبادیوں کا مسئلہ حل کردیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں کمیشن مقرر کر دیتا ہوں وہ جا کے دیکھ لے گا،1996سے لے کر اب تک کیا کیا ہے؟کہتے ہیں تبدیلی آگئی ہے۔ اس پر وکیل درخواست گزار بلال منٹو کا کہناتھا کہ کچی آبادی والوں کو متبادل رہائش دینا پڑے گی،کچھ لوگوں کو گھرمفت بھی دینا پڑیں گے۔ چیف جسٹس کا کہناتھا کہ دنیا بھر میں شیلٹر ہوم بنے ہوئے ہیں ،یہاں سرکاری گھروں کا بہت غلط استعمال ہوتا ہے، ریٹائرڈ لوگ سرکاری گھروں پر قابض ہیں، کچی آبادی میں کالے پانی کے نالے بہہ رہے ہیں، یہ رہنے کے لائق جگہیں نہیں ہیں،50لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں ،50لاکھ گھر بنانے میں وقت لگے گا، 50لاکھ گھر اعلان سے نہیں بن جائیں گے۔

وکیل درخواست گزار کا کہناتھا کہ کچی آبادیوں کے معاملےپرسی ڈی اے میں سیل بناہواہے۔ وکیل درخواست گزارشہباز کھوسہ نے کہا کہ انھیں بلائیں ان کے پاس پورا ڈیٹا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہناتھا کہ بنیادی حقوق کی حفاظت وزیراعظم کے ذمے ہے،آپ کو غلط فہمی ہے وہ صرف تنخواہیں لیتے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب وزیر اعظم کو جا کر بتائیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی