وزیر اعظم کی حکم عدولی پر عہدے سے ہٹایا جانا آئی جی پنجاب کے خلاف پہلی محکمہ جاتی کارروائی ہے :فیاض الحسن چوہان نے مزید کارروائی کا عندیہ دیدیا

وزیر اعظم کی حکم عدولی پر عہدے سے ہٹایا جانا آئی جی پنجاب کے خلاف پہلی محکمہ ...
وزیر اعظم کی حکم عدولی پر عہدے سے ہٹایا جانا آئی جی پنجاب کے خلاف پہلی محکمہ جاتی کارروائی ہے :فیاض الحسن چوہان نے مزید کارروائی کا عندیہ دیدیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ وزیر اعظم کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے پرحکومت کی جانب سے آئی جی پنجاب کے خلاف پہلی محکمہ جاتی کارروائی یہ ہے کہ ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب یہ معاملہ آگے چلے گا ، مریم اورنگزیب سن لیں کہ” وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے“۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”نقطہ نظر “ میں گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ آئی جی پنجاب کو اس لئے تبدیل کیاگیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کا تبادلہ کرنا حکومت کا اختیار ہے ، اس کے لئے آئین و قانون کے اندر کوئی وقت مقرر نہیں ہے ۔ یہ حکومت کی صوابدید ہے کہ جب وہ سمجھے کہ کوئی افسر کام نہیں کررہاہے تو اس کو تبدیل کرسکتی ہے یا ہٹا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے کوئی ایسا حکم جاری نہیں کیا گیا کہ کسی سرکاری افسر کی مدت مقرر کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکم دیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں جتنے بھی افسر اور اہلکار ملوث ہیں ان کو فوری طور پر ہٹا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جس وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا لیکن انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں لیت ولعل سے کام لیا ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب کے تبادلے پر سپریم کورٹ نے مداخلت نہیں کی بلکہ الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پنجاب میں چیف سیکرٹری لیول کے کئی تبادلے ہوئے لیکن الیکشن کمیشن نے اس میں مداخلت نہیں کی ، اس لئے یہ ایک الارمنگ پوزیشن ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئی جی پنجاب کے خلاف پہلی محکمہ جاتی کارروائی یہ ہے کہ ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اب یہ معاملہ آگے چلے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب سے اس معاملے میں بازپرس کی ہوگی کہ آئی جی کی جانب وزیر اعظم عمران خان کی احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا ؟ان کا کہنا تھا کہ مریم اورنگزیب سن لیں کہ وہ دن لد گئے جب ”خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے“۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں چار چھ دن کے بعد کمی واقع ہونا شروع ہوجائے گی ۔

مزید : قومی