’جو خواتین یہ ایک وٹامن نہیں لیتیں ان کے بچے پیدائشی طور پر بیمار ہوسکتے ہیں‘ سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

’جو خواتین یہ ایک وٹامن نہیں لیتیں ان کے بچے پیدائشی طور پر بیمار ہوسکتے ...
’جو خواتین یہ ایک وٹامن نہیں لیتیں ان کے بچے پیدائشی طور پر بیمار ہوسکتے ہیں‘ سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

  

برمنگھم(نیوز ڈیسک)حاملہ خواتین کے لئے متوازن غذا کا استعمال ازحد ضرور ی ہے۔ یہ اُن کی اپنی صحت کے لئے تو اہم ہے ہی، اُن کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کی صحت کا دارومدار بھی بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ ماں کی خوراک کا معیار کیسا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حاملہ خواتین کے لئے متوازن غذا کی آگاہی بہت کم پائی جاتی ہے۔ اور کچھ مخصوص اجزاءکا تو شاید انہوں نے کبھی نام بھی نہیں سنا ہوتا، حالانکہ ان کی کمی بچے کے لئے ایسی پیدائشی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے جو عمر بھر کا روگ ثابت ہوتی ہیں۔ ایک ایسا ہی اہم ترین غذائی جزو فولک ایسڈ ہے، جس کی اہمیت کے بارے میں شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔

ویب سائٹ mirror.co.uk کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ 18 سے 24 سال کی زیادہ تر لڑکیوں میں اس وٹامن کی کمی ہے ، جس کے نتیجے میں ان کے ہاں جنم لینے والے بچوں میں کئی طرح کے پیدائش نقائص پیدا ہو رہے ہیں۔ فولک ایسڈ کے بارے میں آگاہی اس قدر ضروری قرار دی گئی ہے کہ ماہرین نے یہ تجویز دی ہے کہ فیس بک ، انسٹا گرام ، ٹویٹر اور سنیپ چیٹ جیسی ویب سائٹوں پر اس کی اہمیت کے بارے میں پیغامات جاری کئے جائیں، کیونکہ آج کل کے نوجوان سوشل میڈیا پر بہت توجہ دیتے ہیں۔

فولک ایسڈ ماں کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچوں کی نشوونما کیلئے بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی کمی سے نیورل ٹیوب ایفیکٹ پیدا ہوجاتے ہیں، جن کا اظہار بظاہر کئی قسم کے جسمانی بگاڑ اور پیدائشی نقائص کی صورت میں ہوتا ہے۔اس کا ایک نتیجہ بچوں میں ریڑھ کی ہڈی کا مکمل طور پر نشوونما سے محروم رہنا ہے اور فالج کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہر ہفتے اوسطً دو بچے ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں جس کی ایک بنیادی وجہ ماں کے جسم میں فولک ایسڈ کی کمی ہے۔ نوجوان لڑکیوں میں فولک ایسڈ کی کمی کے متعلق حالیہ تحقیق معروف سائنسدان ڈاکٹر سارا جانسن کی سربراہی میں کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے دوران 11 ہزار پانچ سو خواتین میں فولک ایسڈ کے ٹیسٹ کئے گئے تھے اور یہ تحقیق گزشتہ روز ”امریکن سوسائٹی فار ریپروڈکٹو میڈیسن“ کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت