’چند ماہ قبل میری شادی ہوئی تو میں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف۔۔۔‘ پاکستانی دلہن نے اپنی شادی پر مثال قائم کردی، ایسا کام کردیا کہ جان کر آپ بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ پائیں گے

’چند ماہ قبل میری شادی ہوئی تو میں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف۔۔۔‘ پاکستانی ...
’چند ماہ قبل میری شادی ہوئی تو میں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف۔۔۔‘ پاکستانی دلہن نے اپنی شادی پر مثال قائم کردی، ایسا کام کردیا کہ جان کر آپ بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ پائیں گے

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) روایت سے بغاوت کوئی آسان کام نہیں۔ اور خصوصاً ہمارے جیسے معاشرے میں کسی لڑکی کے لئے علم بغاوت بلند کرنا تو ناممکنات میں سے سمجھا جاتا ہے، مگر اس پاکستانی لڑکی نے ایک شاندار مثال ضرور قائم کر دی ہے۔ اپنے پرایوں سب کی مخالفت کے باوجود اتنی سادگی سے شادی کی ہے کہ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اور اب تو اس کے والدین اور بہت سے عزیز بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ انتہائی سادگی سے شادی کر کے اس نے بہت اچھی مثال قائم کی ہے، اگرچہ کچھ ایسے ہیں جن کی ناراضی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

سارہ ہاشمی نامی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر اپنی شادی کی تصویر پوسٹ کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے سب کی مخالفت کے باوجود شادی کی سادہ ترین تقریب کا اہتمام کیا۔ وہ اپنی پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ ” چند ماہ قبل مجھے اپنی شادی کی تقریب کا اہتمام کرنا تھا۔ میرے والدین اور رشتہ دار اسے ایک روایتی پاکستانی شادی کی طرح دیکھنا چاہتے تھے جس میں 300 سے 400 لوگ شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن میرا فیصلہ مختلف تھا۔ میں اسے سادہ ترین تقریب دیکھنا چاہتی تھی۔

اس معاملے پر بہت بحث مباحثہ ہوا ، بہت سے رشتہ دار ناراض ہوئے لیکن میں نے شادی کی تقریب کو سادہ ترین رکھنے کا ہی فیصلہ کیا ۔ اس بارے میں ہم نے ایک عالم دین سے بھی مشورہ کیا، جن کا کہنا تھا کہ سادگی ہی بہتر ہے۔ اس بات سے ہمیں مزید حوصلہ ملا۔

بالآخر انتظامات میری خواہش کے مطابق ہی ہوئے۔ ہماری شادی کی تقریب میں کل 25 افراد نے شرکت کی۔ اس کا انعقاد ہمارے گھر پر ہی ہوا اور کھانے پینے کا اہتمام بھی بہت ہی سادہ تھا۔ میں نے وہی عروسی لباس پہنا جو 33 سال قبل میری والدہ نے پہنا تھا۔ میرا میک اپ میری سہیلیوں نے کیا اور ہم نے بہت کم رقم میں یہ ساری تقریب مکمل کر لی۔

اس وقت تو یہ فیصلہ بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن اب مجھے اس پر فخر ہے ۔ مجھے اور میرے خاوند کو اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے اپنے والدین پر بوجھ نہیں ڈالا ۔ کچھ رشتہ دار اب بھی خوش نہیں ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ہم نے اپنے والدین کے لئے آسانی پیدا کر کے ایک اچھا کام کیا ہے جس پر ہمیں بجا طور پر فخر ہونا چاہیے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی