ماڈل ٹاون کیس ، حکومت کیلیے ایک ٹیسٹ کیس !!!

ماڈل ٹاون کیس ، حکومت کیلیے ایک ٹیسٹ کیس !!!
ماڈل ٹاون کیس ، حکومت کیلیے ایک ٹیسٹ کیس !!!

  



آج سانحہ ماڈل کیس کے ضمن میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سمیت 115پولیس افسران اور اہلکاروں پر فردِ جرم عائد کردی جبکہ مشتاق سکھیرا کے راناثناء اللہ کو ماسٹر مائنڈ قرار دینے کے باوجود راناثناء اللہ قانون کی گرفت سے آزاد ہیں جوکہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے اور ہر سوال کا جواب تلاش کرنا موجود حکومت پر واجب ہے۔

عمران خان نے شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین کی حصولِ انصاف کی جدوجہد میں ہرممکن تعاون کا وعدہ کیاتھا۔ اب چونکہ عمران خان وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں , چنانچہ ماڈل ٹاون کیس ان کی حکومت کیلیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔ 

ڈاکٹرطاہرالقادری نے پاکستان واپس آتے ہی جب شہدائے ماڈل ٹاون کے لیے حصولِ انصاف کی جدوجہد میں تیزی لانے کا اعلان کیا تو وزیراعظم عمران خان نے خود ڈاکٹر طاہرالقادری کو ٹیلی فون کال کی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی جو کہ خوش آئند ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عملی اقدامات کتنے مؤثر ہیں ؟؟؟

عمران خان نے عوامی تحریک کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے ماڈل ٹاون کیس میں نامزد اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا مگر اس کے باوجود نہ جانے عملدرآمد میں کیا سقم رہ گیا کہ ماڈل ٹاون کے نامزد ملزم میجر (ر) اعظم سلیمان کو وفاقی سیکرٹری داخلہ تعینات کردیا گیا۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ اپنے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پراسیکیوشن تبدیل کرنا بھی اچھا حکومتی فیصلہ ہے ۔ توقع ہے کہ نئے پراسیکیوشن ماڈل ٹاون کیس میں مثبت اورغیرجانبدانہ کردار ادا کرے گی۔ 

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سیاسی شخصیات کو ماڈل ٹاون کیس سے بری کرنے کے خلاف عوامی تحریک نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جو اپیل کی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک " جے آئی ٹی " بننے والی ہے۔ یہاں پی ٹی آئی حکومت کا اصل ٹیسٹ ایک غیر جانبدار جے آئی ٹی کا قیام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اس ٹیسٹ میں پاس ہوتی ہے یا نہیں ؟؟؟ اس سے قبل ن لیگی دور حکومت میں بننے والی جے آئی ٹی پرشدید حکومتی دباورہااورعوامی تحریک نے بھی اسے جانبدارانہ قرار دے کر بائیکاٹ کیا تھا۔ سابقہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے متعلق حساس اداروں کے نمائندوں نے اختلافی نوٹ بھی لکھے تھے۔ برسبیلِ تذکرہ بتاتی چلوں کہ مذکورہ بالا اختلافی نوٹس کو پراسرار طور پر ریکارڈ سے غائب کردیا گیا تھا۔ 

نئی جے آئی ٹی نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کیں تو اصل ملزمان قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ توقع ہے کہ نئی جے آئی ٹی کو کسی قسم کے سیاسی دباو کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ چاربرس گزرجانے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاون کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا اورنہ اس بات کی نشاندہی ہوسکی کہ پچاس تھانوں کے ایک ہزار مسلح شوٹرزکس کے حکم پرماڈل ٹاون میں جمع ہوئے اورپنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران کوکس نے نہتے شہریوں پرسیدھی گولیاں فائرکرنیکا حکم دیا ؟؟؟ ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کیلئے غیرجانبدارانہ انکوائری کمیشن کاقیام انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ لہٰذافوری طورپر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔

جب تک شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین کو انصاف نہیں ملتا , تب تک تبدیلی کے دعوے کی اساس کمزور رہے گی۔ کیونکہ یہ صرف ایک کیس حل کرنے کی بات نہیں بلکہ یہ بات ہے ان وعدوں کی جو عمران خان نے عوام پاکستان سے کیے تھے کہ وہ عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ عمران خان کی جماعت کا نام ہی انصاف کی جماعت ہے۔ گویا پاکستان میں نظام عدل کے قیام کو عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کی بنیاد بنایا ہے۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہونیوالی پولیس کی سب سے بڑی ریاستی دہشتگردی کے متاثرین کو انصاف دلائے بغیر کیا انصاف کی جماعت ملک میں کوئی نظام عدل قائم کرنے کا دعویٰ کرسکے گی ؟ کیا سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کو انصاف دلائے بغیر پاکستان میں معاشرتی انصاف اور مساوات کی بنیاد رکھی جا سکے گی؟ کیونکہ سیاسی وابستگی ایک طرف رکھ کر ہمیں یہ سوچنا ہے کہ شہدائے ماڈل ٹاون پہلے مسلمان اور پاکستانی شہری تھے اور ان کے قاتلوں کو کیفرِکردار تک پہنچانا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ