500کرپٹ لوگوں کو جیل بھیجنے کی خواہش

500کرپٹ لوگوں کو جیل بھیجنے کی خواہش

وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہئ چین کے دوران، چینی سرزمین پر، اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش وہ پانچ سو کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج سکتے،چین کے صدر شی چن پنگ نے وزارتی سطح کے 400 افراد کو سزائیں دے کر جیل بھجوایا، ہمارے نظام میں کرپشن روکنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے،لیکن حکومت اس پر کام کر رہی ہے،پاکستان میں کرپشن ہے،جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی، جبکہ سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چائنا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا،اب پاکستان چین سے سیکھ رہا ہے۔

وزیراعظم کے دِل میں کرپشن ختم کرنے کی خواہش تو ہر وقت موجزن رہتی ہے اور وہ دِل سے چاہتے ہیں کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر سکیں،لیکن خواہش کو عملی جامہ پہنانے تک کے سفر میں بہت سے فاصلے حائل ہیں،اُنہیں اقتدار میں آئے ہوئے تیرہ ماہ سے زیادہ ہو گئے،اب تک ایک بھی کرپٹ شخص کو کرپشن کے الزام میں سزا نہیں دیجا سکی،جس کسی کو سزا ہوئی اس کے محرکات دوسرے تھے،کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں 12ارب روپے روزانہ کے حساب سے کرپشن ہوتی رہی ہے، لیکن ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے تو ملک میں صادق اور امین لوگوں کی حکومت کے پھریرے لہرا رہے ہیں،یہ کرپشن بھی بند ہو چکی ہے، کرپشن سے بچا ہوا یہ روپیہ کہاں گیا ہے،کسی کو کچھ علم نہیں،کیا یہ کسی کرپٹ گینگ کے ہتھے چڑھ گیا،جو لوگ کرپشن کے میگا کیسز میں گرفتار ہیں، انہیں بھی سزا نہیں ہوئی۔نواز شریف اور آصف علی زرداری کے متعلق وفاقی وزراء روزانہ یہ بیان دیتے ہیں کہ وہ پیسے دیں اور ملک سے باہر چلے جائیں،کبھی ایک وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ نواز شریف تو ایک پیسہ نہیں دے گا، زرداری البتہ دینے کے لئے رضا مند ہو جائے گا، وزیر اگر ایسی درفنطنیاں چھوڑتے رہیں گے تو انہیں کون سنجیدہ لے گا۔

وزیراعظم اگر پانچ سو کرپٹ لوگوں کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ادارے موجود ہیں اُن کے ذریعے کرپٹ لوگوں کو پکڑیں،اُن کے خلاف قانون کے تحت مقدمات قائم کریں،کرپشن کے ثبوت حاصل کریں اور ان لوگوں کو قانون کے تحت سزا دلوائیں،ثبوت ایسے ٹھوس ہونے چاہئیں کہ اوّل تو یہ بری نہ ہو سکیں اور اگر کسی قانونی سقم کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو اعلیٰ عدالت میں یہ کمی دور کر کے ملزم کو سزا دلائی جائے،لیکن کرپٹ لوگ،چاہے کرپشن اُن کے چہرے پر ہی کیوں نہ لکھی ہو،محض کسی کی خواہش پوری کرنے کے لئے تو گرفتار نہیں ہو جائیں گے اُن کے خلاف قانونی طریقہ اختیار کرنا ہو گا، عدالتوں میں اکثر ایسے ملزم بری ہو جاتے ہیں،جن کے خلاف بڑے بڑے الزامات ہوتے ہیں،لیکن ثبوت کوئی نہیں ہوتا،اِس لئے فاضل جج صاحبان ایسے مقدمات میں ریمارکس دیتے ہیں کہ پولیس نے مقدمہ کی تفتیش کرتے ہوئے عقل استعمال نہیں کی،اس طرح ماتحت عدالتوں کے خلاف بھی کبھی کبھار اس طرح کے ریمارکس سننے میں آ جاتے ہیں کہ عدالت نے جھوٹی گواہیوں پر اعتماد کر کے غلط سزا دے دی،اِس لئے ملزم بری ہو جاتے ہیں، کرپشن تو کرپشن ہم نے قتل تک کے ملزم باعزت بری ہوتے دیکھے ہیں، جنہیں ”چشم دید گواہوں“ کی شہادت کی بنیاد پر پھانسی کی سزا ہو گئی،لیکن اعلیٰ عدالت نے ایسی شہادتوں پر اعتبار نہیں کیا،اِس لئے اگر وزیراعظم500 لوگوں کو گرفتار کرنے کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں تو یہ محض اُس وقت تک خواب ہی رہے گی جب تک، کرپٹ لوگ تلاش نہیں کئے جاتے اور پھر اُن کے خلاف جائز اور درست مقدمات نہیں بنائے جاتے، فرضی کہانیاں گھڑنے اور ان کی بنیاد پر تقریریں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ کمزور کیس میں ماخوذ ملزم عدالتوں سے بری ہو گئے۔اگر وزیراعظم کی خواہش پر بھی ایسے 500 لوگوں کو کسی طرح پکڑ لیا گیا تو ظاہر ہے، اُنہیں سزا دلوانے کے لئے مروجہ قانونی عمل سے گزرنا ہو گا، محض گرفتاری یا گرفتار شدگان کے میڈیا ٹرائل سے نہ تو کسی کو سزا ہو سکتی ہے اور نہ عدالتیں ایسی کسی مہم جوئی کو مانتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے ذہن میں کوئی ایسا خاکہ ہے جسے کام میں لا کر وہ اپنے من پسند افراد کو گرفتار کرا سکیں،”من پسند“ اس لئے کہ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے کرپٹ لوگوں کی بجائے مخالفین کو گرفتار کرنا ہی پسند کریں گے،جس کی گرفتاری سے انہیں ایک گونہ راحت ہو گی اس وقت بھی کرپشن کا الزام اُن کی پارٹی کے کئی لوگوں پر بھی لگ رہا ہے، پشاور میٹرو کے منصوبے پر خصوصی طور پر ایسے الزام لگ رہے ہیں، لیکن کوئی اس جانب نظر اُٹھا کر نہیں دیکھ رہا،گرفتاریاں صرف اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کی ہو رہی ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ ہر حکومت دیانتدار ہوتی ہے اور ہر اپوزیشن کرپٹ۔کم از کم اس وقت تو یہی نظر آتا ہے وزیراعظم کے ذہن میں اگر کوئی ایسا منصوبہ ہے، جس کے تحت وہ لوگوں کو گرفتار کر کے اپنی سیاسی تسکین کرنا چاہتے ہیں تو بظاہر اس کی کامیابی کا امکان نہیں،کیونکہ پاکستان میں ایک آئین نافذ ہے جس کے تحت قانون سازی ہوتی ہے، قانونی عدالتیں ہیں جہاں سے ملزموں کو بھی قانون کی گنجائش کے مطابق ریلیف مل جاتا ہے۔سیاسی جماعتیں ہیں جو لانگ مارچ بھی کرتی ہیں اور دھرنے بھی دیتی ہیں،خود عمران خان نے126دن کا تاریخی دھرنا دے کر اپنی پارٹی کا نام گینز بُک آف ریکارڈز میں درج کرایا تھا، اب اُنہیں مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کا سامنا ہے تو وہ سب کچھ بھول بھلا گئے ہیں،صرف گرفتاریوں کی خواہش کرتے ہیں جو ایسے پوری نہیں ہو سکتی۔چین میں بے شک 400لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا،لیکن کیا وہاں کرپشن ختم ہو گئی؟ اس کا جواب بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی وہاں ایک پارٹی کی حکومت ہے جسے کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہوتا، البتہ اس کے اندر سے چیلنج ابھرتے رہتے ہیں، ثقافتی انقلاب اور چار کے ٹولے کی بغاوت ایسے ہی چیلنج تھے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...