ادویات پھر مہنگی!

ادویات پھر مہنگی!

فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے ایک بار پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، سات فیصد اضافے کے ساتھ عام ہی نہیں جان بچانے والی ادویات بھی مہنگی ہو گئیں، یہ سات فیصد اضافہ عام سردرد جیسی گولی میں دو سے پانچ روپے فی گولی ہوا، جبکہ السر، شوگر اور بلڈ پریشر کی ادویات کی قیمت 46روپے تک بڑھی اسی تناسب سے زیادہ قیمتی دواؤں کے نرخ بڑھ گئے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اسے معمول کا عمل قرار دیا اور بتایا کہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں ایک سال میں ایک بار سات فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔ ڈریگ کی طرف سے وضاحت تو کر دی گئی، تاہم ادویات کے ساتھ بھی بجلی کے نرخوں والا معاملہ ہوا کہ دو دن میں تین بار قیمت بڑھائی گئی جبکہ ادویات میں ایک سال کے اندر یہ تیسرا اضافہ ہے پہلی بار 30فیصد سے سو فیصد تک اضافہ کیا گیا جو احتجاج اور عدالت عظمیٰ کے نوٹس کے بعد واپس لینے کا اعلان کیا گیا لیکن عملاً ایسا نہ ہو سکا کہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں اعلان کرتی رہیں، بازار میں ادویات سستی نہ ہوئیں۔اب یہ قواعد کے مطابق اضافہ مزید بوجھ بنے گا کہ پہلے ہی عام مہنگائی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے،اب علاج بھی مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عام لوگ مجبور ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کے نظام بگڑے اور وہاں اب مفت علاج نہیں ہوتا البتہ سستا کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کی فیس نہیں دینا پڑتی لیکن نظام کی وجہ سے پریشانی ہوئی۔حکومت کو لوگوں کا صبر آزمانے کی بجائے عملی اقدمات کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی تدبیر کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...