نوجوان اہل ِ خیرکی توجہ کا منتظر

نوجوان اہل ِ خیرکی توجہ کا منتظر
نوجوان اہل ِ خیرکی توجہ کا منتظر

  

جوان اولاد بڑھاپے کا سہارا ہوتی ہے، والدین اسے پالتے پوستے اس کے لئے خیرو ترقی کی دُعائیں مانگتے ہیں۔ اگر یہی اولاد جوانی میں والدین کا سہارا بننے کی بجائے بوجھ بن جائے تو دُکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،پشاور یونیورسٹی روڈ کے مقیم سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس محترم ہارون نے ایک خط کے ذریعے ہماری توجہ ایک ایسے ہی مسئلے کی طرف دلائی، کہ جواں بیٹا، ماں کے لئے بوجھ بن گیا، حالانکہ وہ خود مزدوری کر کے ماں کا پیٹ بھی پالتا تھا،لیکن اب اس کی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرنے پر مجبور ہے،اس کے صاحبزادے وسیع اللہ کو آنکھوں کا مرض لاحق ہوا اور وہ دیکھنے سے معذور ہو گیا، پہلے وہ ویلڈنگ کا کام کرتا اور مزدوری سے گھر چلتا تھا،اسے آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوا، غربت کی وجہ سے ٹونے ٹوٹکوں سے علاج کیا گیا، بیماری بڑھ گئی اور بینائی جاتی رہی،والدہ نے ہاتھ پیر مارے تو ماہر چشم سے رجوع کیا گیا، ڈاکٹر نے مریض دیکھا اور بتایا کہ وسیع اللہ کا علاج ممکن ہے وہ دیکھ بھی سکے گا تاہم اس کے لئے ”کارنیا“ کی تبدیلی ہو گی، لوگ ہمارے ملک میں آنکھوں کا عطیہ نہیں دیتے اِس لئے ”کارنیا“ باہر سے منگوانا پڑتی ہے۔اس کے لئے امریکہ سے منگوائی جا سکتی ہے۔

یوں ”کارنیا“ اور تبدیلی کے عمل پر قریباً پانچ لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔سابق پولیس افسر ہارون کے مطابق نوجوان کی والدہ تو لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گذارہ کرتی ہے وہ کہاں سے اتنی رقم کا انتظام کر سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں خصوصی افراد کے حوالے سے تفصیلاً بات کی اور ترقی یافتہ ممالک کی تعریف کی جو معذروں کی بحالی کے مراکز بنا کر ان کی عزت نفس کا بھی خیال کرتے ہیں،ان کو خصوصی افراد کا درجہ دیا گیا کہ معاشرے کے فعال رکن بن سکیں، خط میں کہا گیا کہ دُنیا بھر میں انسانیت کے لئے بہت کام ہوتا ہے،ایسا ہمارے پاکستان میں بھی ہے۔ہم لوگ بھی بہت خیرات کرتے ہیں،ایدھی جیسے ادارے مثال ہیں،تاہم ہمیں بہت کام کرنا ہے۔یہاں بھی اب معذوروں کو خصوصی افراد کہا جانے لگا اور بحالی کے مراکز ہیں،تاہم ابھی تک اس حوالے سے بھی کئی الگ شعبوں کی ضرورت ہے،اسی میں آنکھوں کا مرکز بھی ہے کہ یہاں نہ صرف ”کارنیا“ تبدیل کرنے کے کلینک ہونا چاہئیں،بلکہ لوگوں کو اجزاء عطیہ کرنے کی ترغیب بھی دی جائے۔

سری لنکا بھی ترقی پذیر ملک ہے، جو خانہ جنگی کا بھی شکار رہا،اس ملک کے لوگ دُنیا میں سب سے زیادہ آنکھوں کا عطیہ دیتے ہیں۔ محترم ہارون کے مطابق جہاں تک وسیع اللہ کا تعلق ہے تو اس کی والدہ کے لئے اتنی بڑی رقم اکٹھی کرنا ممکن ہی نہیں،اس کے لئے مخیر حضرات کی ضرورت ہے۔مَیں نے خود65ہزار روپے جمع کئے تاہم پھر بھی4لاکھ35ہزار کی ضرورت ہے اور یہ کوئی بڑی رقم نہیں کہ مخیر حضرات عطیہ نہ کر سکیں، ان کی تھوڑی تھوڑی مدد اور تعاون کسی کو پھر سے نئی زندگی دے سکتا ہے اور یہی وسیع معاشرے کا فعال رکن بن کر مزدوری سے والدہ کا بوجھ بھی اُٹھا سکتا ہے۔یہ بالکل درست اور خط میں ایک درد مند انسان نے جو تفصیل لکھی۔

وہ بھی قابل غور ہے اور مخیر حضرات کی توجہ چاہتی ہے، توقع ہے کہ لوگ آگے بڑھیں گے، ڈی ایس پی ہارون کی معرفت یا بیوہ کے فون0345-5035544 پر رابطہ کر کے خود جا کر امداد پہنچا دیں گے۔

خط تحریر کرنے والے ایک ذمہ دار شخص ہیں، جنہوں نے خود اپنی ذات سے تعاون کی ابتدا کی ہے،اِس لئے توقع ہے کہ اس نابینا نوجوان کا علاج ممکن ہو جائے گا،جہاں تک خط میں معذور افراد کے لئے توجہ اور ترقی یافتہ ممالک کی کاوش کا ذکر کیا گیا ہے تو ہمارے ملک میں بھی بہت کام ہو رہا ہے، کئی مراکز کام کر رہے ہیں۔

سرکاری سطح پر بھی سرپرستی ہوتی ہے،بلکہ ہمارے ملکی خصوصی افراد تو اب کھیلوں میں بھی اہمیت اختیار کر گئے اور عالمی مقابلوں تک میں بھی حصہ لے رہے ہیں،اس کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے بحالی کے مراکز اور بھی ہوں،خصوصی افراد کے حوالے سے الگ الگ اداروں کی ضرورت ہے،پہلے سے موجود اداروں کی فعالیت بہتر بنانے کے ساتھ دوسرے امراض میں علاج اور بحالی مراکز بننا چاہئیں اور ایک بہتر نظم و نسق کے تحت ان کے لئے امداد مہیا ہو،مخیر حضرات بھی انفرادی سطح کی بجائے قومی حوالے سے تعاون کریں،ان کو یقین ہونا چاہئے کہ ان کی امداد درست استعمال ہو گی،اسی طرح ہمارے یہاں جسمانی اعضاء عطیہ کرنے کا رجحان بھی ضروری ہے،اس سلسلے علمائے کرام بھی اجازت دے چکے ہیں،اگر ضرورت ہو تو علمائے کرام ہی کی خدمات سے مزید استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ عوام کو شرعی طور پر بھی آگاہ کیا جائے۔

نظم و نسق کے حوالے سے ایک برادر ملک کی مثال کافی ہے، ایران میں بھیک سرکاری طور پر منع ہے اور ایسے ضرورت مند جو مجبور ہوں ان کے لئے ادارہ بنایا گیا ہے، جو ان کی فہرست تیار کر کے ان کے ساتھ پورا تعاون کرتا ہے۔بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ سنٹروں میں شعبہ زکوٰۃ اور خیر کی طرف سے بکس رکھے گئے ہیں،مخیر حضرات اپنی خیرات ان میں ڈالتے ہیں،اس طرح ایران میں کوئی بھکاری نظر نہیں آتا، ہم نے جو دن تہران اور دوسرے شہروں میں گزارے ان کے دوران یہ دیکھا تھا، ہمارے ملک میں بھی بھیک مانگنے والوں کا مسئلہ اس طرح حل ہو سکتا ہے اور یوں مستحق کو سرکاری تعاون مل جائے گا اور عام لوگ اس مخمصے سے نجات پائیں گے کہ جن کو وہ خیرات دے رہے ہیں وہ مستحق ہیں یا نہیں،توقع ہے کہ ایک صاحب ِ دِل سابق افسر کی اپیل کے جواب میں وسیع اللہ کو بینائی مل جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -