مرید عباس قتل کیس، تفتیشی افسرفائرنگ سے زخمی، مرکزی ملزم کابھائی گرفتار، کئی اہم انکشافات

مرید عباس قتل کیس، تفتیشی افسرفائرنگ سے زخمی، مرکزی ملزم کابھائی گرفتار، ...

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)شہر قائد میں اینکر مرید عباس کے قتل کیس میں مصروف تفتیش سب انسپکٹر پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا، آئی جی سندھ نے سب انسپکٹرسید غوث عالم پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بریگیڈ تھانے کی حدود میں کار پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر غوث عالم شدید زخمی ہوگئے۔زخمی سب انسپکٹر کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق زخمی سب انسپکٹر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، زخمی پولیس افسر کو چہرے پر ایک گولی لگی ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق غوث عالم انویسٹی گیشن ساتھ زون میں تعینات ہیں۔بدھ کی صبح 2 موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے ان پر حملہ کیا۔ غوث عالم کی گاڑی سگنل پر رکی تو ملزمان نے فائرنگ کردی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے سر پر ایک ہی گولی چلائی، گولی سب انسپکٹر کے جبڑے پر لگی۔ فائرنگ کے بعد گاڑی آگے جا کر رکشے سے ٹکرا کر رکی۔پولیس حکام کے مطابق زخمی سب انسپکٹر غوث عالم ہائی پروفائل کیس میں مصروف تفتیش تھے، غوث عالم نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے انتہائی مطلوب ملزم کو گرفتار کیا۔ غوث عالم نے 3 گھنٹے پہلے ملزم عادل زمان کو تھانے منتقل کیا، تھانے سے دفتری امور کیلئے نکلا تو 4 ملزمان نے فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق زخمی سب انسپکٹر غوث عالم کا کراچی آپریشن میں بھی اہم کردار ہے، غوث عالم دیگر انتہائی اہم مقدمات پر کام کر رہے تھے۔پولیس حکام کے مطابق پولیس سب انسپکٹر سید غوث عالم شعبہ انویسٹی گیشن ساؤتھ میں تعینات ہیں جو گھر سے سرکاری کام کے لیے اپنی اسلام آباد نمبر پلیٹ کی ٹیوٹا کرولا کار میں کہیں جا رہے تھے۔بریگیڈ تھانے کی حدود پی ای سی ایچ سوسائٹی میں شارع قائدین کے خداداد کالونی سگنل پر ان کے تعاقب میں آنے والے موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان میں سے ایک نے پستول سے ان پر فائرنگ کردی۔پولیس انسپکٹر نے گاڑی بھگانے کی کوشش کی تو کار ایک رکشے سے ٹکرا کر رک گئی۔پولیس کے مطابق سید غوث عالم کراچی میں کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سابق ایس ایس پی فاروق اعوان کی ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کئی خطرناک اور اہم ملزمان کی گرفتاری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ دہشت گردی لگتا ہے تاہم دیگر پہلوؤں سے بھی اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔۔دوسری جانب آئی جی سندھ نے سب انسپکٹرسید غوث عالم پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے کہاہے کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی جائے، زخمی پولیس افسر کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔دوسری طرف ملزم عادل زمان نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا جس میں اس نے انکشاف کیا کہ مرید عباس کے قتل کے وقت میں عاطف زمان کے ساتھ تھا، ہمارا منصوبہ صرف مرید عباس کو دھمکانے کا تھا، بات چیت کے دوران عاطف نے طیش میں آکر فائرنگ کردی جس کے بعد میں نے عاطف زمان کودفتر سے گھرچھوڑا اور اس واقعے کے بعد میں بالا کوٹ چلا گیا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو کے مطابق مفرور ملزم عادل زمان کو رات گئے ڈیفنس سے گرفتارکیا گیا تھا، عادل زمان سے کیس سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج خداداد کالونی پر ہمارے قابل افسر کو نشانہ بنایا گیا، فائرنگ کا واقعہ اور عادل کی گرفتاری دو الگ واقعات ہیں لہٰذا دونوں واقعات کو ایک ساتھ جوڑنا قبل از وقت ہوگا، فائرنگ کا نشانہ بننے والا اہلکار غوث اینکر مرید عباس کے قتل کے کیس پر کام کر چکا ہے۔

اینکر مرید عباس قتل کیس

مزید :

پشاورصفحہ آخر -