ضم شدہ اضلاع کی ترقی ترجیحات میں سرفہرست ہے، کامران بنگش

    ضم شدہ اضلاع کی ترقی ترجیحات میں سرفہرست ہے، کامران بنگش

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پہلے دن سے ضم شدہ اضلاع کی ترقی میں دلچسپی لے رہی ہے تاکہ اسے دیگر اضلاع کے ہم پلہ کیا جائے۔ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے نئے ضم شدہ اضلاع کے لئے میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس سے مقامی سطح پر کاروبار کو فروغ ملے گا جبکہ لوگ باروزگار بھی ہوں گے۔ انفارمیشن تیکنالوجی کے حوالے سے تمام وہ سہولیات جو دیگر علاقوں کے عوام کو میسر ہیں وہ ضم شدہ اضلاع میں بھی دیں گے۔ کیونکہ آنے والا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے اور خیبرپختونخوا اس حوالے سے سب سے آگے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوایس ایڈ کی جانب سے قبائیلی اضلاع میں اقتصادی بحالی پروگرام کے تحت بزنس انکیوبیشن ٹریننگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔صوبائی معاون کامران بنگش نے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن میں خیبرپختونخوا سب سے آگے ہے، جو ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے۔ تمام وہ پراجیکٹس جو عوامی فلاح کے لئے لائے جاتے ہیں محکمہ سائنس و انفارمیشن تیکنالوجی ان کے پراجیکٹس میں تکنیکی اور دیگر تعاون کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹریننگ سے مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ مستفید ہوں گے۔جس سے ایک طرف ضم شدہ اضلاع میں نوجوان باروزگار ہوں گے تو دوسری طرف اقتصادی اعشارئیے بھی بہتر ہوں گے۔ اس موقع پر صوبائی معاون کامران بنگش کے ساتھ ممبر صوبائی اسمبلی عائشہ بانو بھی موجود تھیں۔ ضم شدہ اضلاع میں انکیوبیشن مراکز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کامران بنگش نے کہا کہ سات قبائیلی اضلاع میں ماڈل انکیوبیشن مراکز کے ساتھ ساتھ سہولت مراکز قائم کرنے کے لئے کام جاری ہے جس کا بنیادی مقصد وہاں ترقی کی نئی راہیں کھولنی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی واحد فیلڈ ہے کہ جس میں ہماری خواتین بھی بلا خوف و خطر اپنا کاروبار کر سکتی ہیں کیونکہ اس میں گھر سے بھی اپنا کاروبار چلایا جاسکتاہے۔ اسی لئے ہم نے کوشش کی ہے کہ ہر آئی ٹی پراجیکٹ میں خواتین کے لئے جگہ رکھی جائیں تا کہ وہ بھی قبائیلی اضلاع کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے اس موقع پر ضم شدہ اضلاع میں خواتین کی جانب سے بنائے گئے ہینڈ کرافٹس سٹال کا دورہ کیا اور ان کی محنت اور کوششوں کی تعریف کی۔ صوبائی معاون نے واضح کیا کہ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیم ہر وقت تکنیکی تعاون کے لئے تیار ہے تاکہ سائنس و انفامیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے صوبے کی آمدن میں اضافہ ہو اور عوام باروزگار ہوں۔ آنے والے وقتوں میں خیبرپختونخوا کی معیشت میں خواتین کاسب سے زیادہ حصہ ہوگا اور یہ سب سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...