لمزکے 2پروفیسرز کو فیس بک کی جانب سے ریسرچ گرانٹ سے نوازا گیا

لمزکے 2پروفیسرز کو فیس بک کی جانب سے ریسرچ گرانٹ سے نوازا گیا

  

لاہور(پ ر)سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی خبریں یا غلط معلومات دینا جہاں دُنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا رحجان ہے وہیں انتخابی مداخلت، پولرائزیشن اور تشدد سے لے کر سوسائٹیز پر اِس کا گہرا معاشرتی، معاشی اور سیاسی اثر بھی پڑ سکتا ہے۔ اِس مسئلہ سے ترقی پذیر ممالک کو کافی چیلنج درپیش ہیں جہاں خواندگی کی شرا انتہائی کم اور ٹیکنالوجی کا محدود استعمال صارفین کو غلط معلومات پر یقین کرنے اور اُن پر عمل کرنے کے لئے زیادہ حساس بنا سکتا ہے۔پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کے مسئلہ پر لمز فیکلٹی ڈاکٹر عائشہ علی (اسسٹنٹ پروفیسر آف اکنامکس) اور ڈاکٹر احسان ایوب قاضی (ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈ چیئر، ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس) کو حال ہی میں فیس بُک کے ذریعہ ڈیجیٹل لٹریسی کے اثرات کو سمجھنے سے متعلق اُن کی تجویز پر ریسرچ گرانٹ سے نوازا گیا۔انتہائی مقبول فیس بُک انٹیگریٹی فاؤنڈیشنل ریسرچ ایوارڈ 2019ء میں دُنیا بھر سے صرف 11تجاویز کو شامل کیا گیا۔

ا، جس میں اسٹین فورڈ یونیورسٹی، پنسلوانیہ یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کی تجاویز شامل تھیں۔ا ن میں سے صرف دو ایوارڈز امریکہ سے باہر کی یونیورسٹیوں کو دیئے گئے تھے۔

ڈاکٹر علی نے کیلیفورنیا کے میلنو پارک میں اپنی ریسرچ کے نتائج پیش کرتے ہوئے فیس بُک پر ایک سیمینار دیا، بعد ازاں اُنہیں کیمبرج کے ایم آئی ٹی سلوان سکول آف مینجمنٹ میں سیمینار کیلئے مدعو کیا گیا۔

ڈاکٹر علی اور ڈاکٹر قاضی کی جانب سے پاکستان کے شہر لاہور میں کم اور درمیانی آمدنی والے صارفین میں سوشل میڈیا کے استعمال کے رحجانات کو روکنے کی غرض سے گھریلو سطح پر ایک سروے کیا گیا اور ڈیجیٹل خواندگی کی نچلی سطح والی آبادی میں غلط معلومات کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دو ایجوکیشنل مداخلتوں کی تاثیر کا جائز ہ لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اصل خبروں کی فہرست کا استعمال کرتے ہوئے اس کا اندازہ لگانے کیلئے کہ صارفین کو غلط معلومات پر کس حد تک یقین ہے، پہلی مداخلت میں صارفین کو مقامی زبان میں ویڈیو کے ذریعے غلط معلومات کی عام خصوصیات سے آگاہ کرتی ہے جبکہ ویڈیو کے علاوہ دوسری مداخلت صارفین کو غلط معلومات ملوث ہونے میں اُن کے ماضی کے طرز عمل کے بارے میں آراء فراہم کرتا ہے۔

مزید :

کامرس -