چینی صنعتکاروں کیساتھ مشترکہ سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حکمت عملی وضع کی جائیگی پی سی جے سی

چینی صنعتکاروں کیساتھ مشترکہ سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حکمت عملی وضع کی ...

  

 لاہور(پ ر)چین کے ساتھ فوڈ پراسیسنگ، ملبوسات سازی، ڈائینگ اور ایمبرائیڈری کے صنعتوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ یہ بات پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زرک خان نے اپنی صدارت میں منعقدہ چیمبر کے تھنک ٹینک کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی اور سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف سمیت متعدد اراکین مجلس عاملہ موجود تھے۔زرک خان نے بتا یا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف چینی صنعتکاروں سے ملاقاتوں کے دوران مجھے اندازہ ہوا ہے کہ چینی سرمایہ کار پاکستان کے ساتھ صنعتی و تجارتی اشتراک عمل کومزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ پراسیسنگ کے شعبہ میں پاکستان دنیا سے کافی پیچھے ہے جبکہ چین کے پاس اس شعبہ کی جدید ٹیکنالوجی میسر ہے۔ اگر پاکستان مید پیدا ہونے والی زرعی اجناس اور چین میں موجود فوڈ پراسیسنگ کی جدید ٹیکنالوجی کو ملا دیا جائے تو اس سے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی مدت صدارت کے دوران چین کی جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان کی روائتی صنعتوں سے ملاکر قومی برآمدات کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہون نے کہا کہ اس سلسلے میں تھنک ٹینک کے اجلاس تواتر سے جاری رکھے جائیں گے اور ان میں تشکیل پانے والی تجاویز پر عملدرآمد کر کے چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی، تجارتی،سرمایہ کاری اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنا یا جائے گا۔اس موقع پر پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر معظم گھرکی نے کہا کہ پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی کثیر پیداوار ہر سال جدید سٹوریج اور پراسیسنگ ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ہمیں چین کی مدد سے ہارٹیکلچر کے شعبہ میں موجود یہ خلا ء پر کرنیکی کوشش کرنی چاہیے۔

نیز انہوں نے بتا یاکہ پاکستان میں متعدد ایسی ہربل ادویات اور جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جنکی چین میں بہت مانگ ہے۔ اس غیر روائتی شعبہ کو بھی ہم چین کے ساتھ اشتراک عمل کیلئے بروئے کارلا سکتے ہیں۔پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف نے چیمبر کے عہدیداروں کو یقن دہانی کرائی کہ وہ انکے وژن کے مطابق چین سے وفود کو پاکستان مدعو کریں گے۔انہوں نے تائید کی کہ پاکستان اور چین کے درمیان فوڈ پراسیسنگ کی صنعت کے علاوہ دیسی ادویات سازی کے شعبہ میں بھی اشتراک عمل کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

مزید :

کامرس -