کراچی میں طاقتور کاکمزور پر تشدد،پولیس مصلحتاََخاموش،انصاف کون کریگا؟

  کراچی میں طاقتور کاکمزور پر تشدد،پولیس مصلحتاََخاموش،انصاف کون کریگا؟

  

لا ہور (تجز یہ: یو نس باٹھ) پاکستانی معاشرے میں طاقت کو عزت دینے کے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کراچی کے ایک حالیہ واقعے میں ایک اور بگڑے شہزادے کے گارڈ زنے راستہ جلدی نہ دینے پر ایک نوجوان کی پٹائی لگا دی، اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس طرح کے واقعات تو آئے روز کہیں نہ کہیں پیش آتے رہتے ہیں مگربعض اوقات ان کا تدارک بھی ایسے کیا جاتا ہے جو کہ مثالی ہو تا ہے،اب یہ رویہ محض اس لیے ہے کہ پولیس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ہیں یا اس کا اس قدر سیاسی استعمال کیا گیا ہے کہ اب اس کے افسران بھی قانون پر عملدرآمدکے بجائے طاقت ور کو سلام کرتے ہیں۔ تازہ واقعہ میں شاہ زین بگٹی کے گارڈز نے نوجوان کومحض اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس نے انہیں فوری طور پر راستہ نہیں دیا تھا۔ زخمی لڑکے نجم کی والدہ کا بیان ہے کہ پولیس والے وہاں موجود تھے لیکن انہوں نے مد اخلت نہیں کی۔ اگرچہ شکایت پرپولیس حکا م نے کارروائی کی اور ڈرائیور و دیگر افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔زین بگٹی شہرمیں نہیں ہے پھر بھی ان کے گارڈز اورڈرائیور نے یہ حرکت کی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر شاہ زین گاڑی میں ہوتے تو نوجوان کا کیا حشرہوتا۔ اب ایس ایس پی ساؤتھ ثبوت تلاش کریں گے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد لیں گے۔ اس بات کو اگر دوسرے زاوئیے سے دیکھا جائے کہ شاہ زین بگٹی یا کسی با اثر شخص کی جانب سے یہی الزام لگایا گیا ہوتا تو کیا پولیس ثبوت تلاش کرنے کیساتھ ساتھ سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول کی زحمت کرتی شائداس ملزم کوہاتھ پاؤں توڑکر پھینک دیا ہوتا۔ جب شاہ زین بگٹی کراچی پہنچیں گے تو خدشہ یہی ہے کہ ان کا عملہ با عزت رہائی پا جائے گا اور جس نوجوان پر تشدد ہوا ہے اسے دھمکیاں مل جائیں۔اس واقعہ کے حوالے سے سابق چیف سیکرٹری پولیس افسران کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پریشر گروپ کا کام نہ کریں۔ سرکاری ملازمین کا کام عوامی مفادات کا تحفظ ہے لیکن یہ چیف سیکرٹری سابق ہونے کے بعد یہ مشورے کیوں دے رہے ہیں؟اگر انہوں نے اس وقت پولیس کے غلط استعمال پر توجہ دی ہوتی جب وہ چیف سیکرٹری تھے تو اب صورتحال کہیں بہتر ہوتی۔ اپنے دور میں تو پوری دلجمعی کے ساتھ پولیس افسران کو ایم کیو ایم،پی پی اور حکمرانوں کا پریشر گروپ بنایا جاتا تھا۔موجودہ آئی جی سندھ کہتے ہیں کہ پولیس کو پروفیشنل بنایا جائیگا تو اس جانب قدم بڑھائیں۔

تجزیہ/یونس باٹھ

مزید :

علاقائی -