خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے ذخائردریافت ہوگئے،وزارت پٹرولیم

  خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے ذخائردریافت ہوگئے،وزارت پٹرولیم

  

اسلام آباد (این این آئی)خیبر پختونخوامیں توغا ویل ون کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر مل گئے۔ سینیٹر محسن عزیز کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کی نئے ذخائر پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایاکہ خیبر پختونخوامیں توغا ویل ون کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر ملے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں تیل و گیس ذخائر میں خیبر پختونخواآئل اینڈ گیس کمپنی کو 25 فیصد حصہ دیا جائے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ صوبوں کو اس طرح حصہ نہیں دیا جا سکتا،بلوچستان حکومت نے بلاک 28 کوہلو میں پیداوار کا ڈھائی فیصد حصہ مانگا ہے۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہاکہ کوہاٹ سوئی نہیں ہے یہاں پہلے آپ مقامی لوگوں کو گیس دیں گے پھر آ گے جائیگی۔

سوئی ناردرن گیس حکام نے بتایاکہ کوہاٹ کے 35 گاؤں کیلئے سکیم منظور ہو چکی ہے۔سینیٹر شمیم آفریدی نے کہاکہ کم از کم پائپ لائن تو ڈالیں دیں۔ او جی ڈی سی ایل حکام نے بتایاکہ رواں سال تیل و گیس کی تلاش کیلئے 30 نئے ویل ڈرل کرینگے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ او جی ڈی سی ایل کا مستقل ایم ڈی گزشتہ پانچ سال سے نہیں۔ قائمقام ایم ڈی نے بتایاکہ اوجی ڈی سی ایل میں تین نئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رکھے ہیں،جنہیں 14لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ پانچ سال سے ادارے کا سربراہ نہیں اس کی وجوہات بتائی جائیں۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وزارت پٹرولیم معاملے پر غور کر کے تفصیلات کمیٹی کو دے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہاکہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت 13 انجینئرز کو ملازمت دی گئی مگر ان کومستقل نہیں کیا جا رہا۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ صرف بلوچستان نہیں فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے بھی ایسے مسائل حل کیے جائیں۔

وزارت پٹرولیم

مزید :

علاقائی -