نومسلم خاتون اور اسکے شوہر کو ہراساں کئے جانے کیخلاف کیس کی سماعت

  نومسلم خاتون اور اسکے شوہر کو ہراساں کئے جانے کیخلاف کیس کی سماعت

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے ننکانہ صاحب میں مسلمان ہونے والی سکھ لڑکی اور اس کے شوہر کو ہراساں کرنے کے خلاف دائر درخواست پرپنجاب حکومت،پولیس اوردیگر مدعاعلیہان کو جواب داخل کرنے کے لئے 23 اکتوبر تک کی مہلت دے دی۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے متاثرہ جوڑے عائشہ اور حسن کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار وں کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاکہ حسن نے ننکانہ صاحب کی سکھ لڑکی کو مسلمان کرکے اس کے ساتھ لاہور میں شادی کی،خاتون کا نام عائشہ رکھا گیا،شادی کرنے پر لڑکی کی برادری کی طرف سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیاجا رہا ہے،گورنر پنجاب نے فریقین میں صلح بھی کروائی،اس کے باوجود ہراساں کئے جانے کا سلسلہ رک نہیں رہا،جس کے باعث عائشہ دارالامان لاہور میں مقیم ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حسن کے خلاف درج مقدمہ خارج اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کیا جائے،سرکاری وکلاء کی طرف سے جواب داخل کرنے کے لئے مہلت کی استدعا کی گئی جس پر کیس کی مزید سماعت23اکتوبر پر ملتوی کردی گئی۔اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

مزید :

علاقائی -