لداخ میں بھارت اور چین مابین کشیدگی عروج پر

لداخ میں بھارت اور چین مابین کشیدگی عروج پر
 لداخ میں بھارت اور چین مابین کشیدگی عروج پر

  


مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک چین نے بھی بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک جموں و کشمیر اور دوسرا لداخ۔ لداخ کو اپنا علیحدہ صوبہ یا ریاست بنانے کی وجہ سے بھارت اور چین کی کشیدگی میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ علاقہ چین کے زیرکنٹرول اکسائی چن کے علاقے سے متصل ہے جہاں چینی فوجیں بڑی تعداد میں متعین ہیں۔ اس علاقے میں بھارت اور چین کی فوجوں میں کئی مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

1962ء میں یہاں ایک بہت بڑی لڑائی ہوئی تھی جس میں چینی فوج نے بھارتی فوج کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ موجودہ صورتحال میں چین نے لداخ میں بھارت پر فوجی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ چین کی جانب سے بھارتی فوج پر تواتر کے ساتھ حملے ہو رہے ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے شمال مشرق میں واقع لداخ کا علاقہ مزید دو حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سے ایک لہہ کہلاتا ہے اور دوسرا کارگل۔ ضلع لہہ کی آبادی میں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے جبکہ کارگل کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے۔ لداخ جموں کشمیر کا وہی علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھارتی اور چینی دستوں کے مابین وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

گو کہ لداخ کے علیحدہ صوبہ بن جانے کے بعد یہاں کی بدھ آبادی نے خوشی کا اظہار کیا تھا لیکن اس کی یہ خوشی اب خوف اور خدشات میں بدل گئی ہے۔ لداخ میں مقیم بدھ آبادی کو خدشہ ہے کہ بھارتی حکومت بھارت کے مختلف علاقوں سے ہندو آبادی کو لداخ اور لیہہ میں آباد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس سے مقامی بدھ آبادی اور باہر سے آنے والوں میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ اسی لئے لداخ کے بدھ لیڈروں نے خبر دار کیا ہے کہ وہ باہر سے آ کر لداخ کے علاقے میں آباد ہونے والوں کو تسلیم کریں گے نہ انھیں زمین خریدنے کی اجازت دیں گے۔

مقبوضہ کشمیر بارے پیدا شدہ صورتحال نے پاکستان چین تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس وقت چین جموں و کشمیر میں لداخ کے بھارتی سرحدی علاقوں کو کاٹنے کی کوشش سمیت بھارت پر براہ راست فوجی دباؤ بڑ ھا رہا ہے۔ لداخ میں چینی فوج کے بھارتی فورسز پر دھاوے مزید مستقل اور متواتر ہوگئے ہیں۔ چینی فوجیوں کی بھارتی فوجیوں کیساتھ کئی بار لڑائی اور ہاتھا پائی ہوئی ہے۔ بھارت دو نیوکلیئر ملکوں پاکستان اور چین میں منفرد انداز میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ دونوں ملک پاکستان اور چین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر ی علاقے کے دعویدار ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دینے پر چین نے بھی اعتراض اٹھایا ہے جس کو انڈیا نے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے انڈین آئین کی شق 370 ختم کئے جانے اور جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکزی خطوں میں تقسیم کیے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بھارت کو ایسے ”یکطرفہ فیصلے“ کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے خطے میں کشیدگی پیدا ہو۔

بھارت اور چین کے درمیان 3488 کلومیٹرلمبی سرحد تین خطوں میں منقسم ہے۔مشرقی سیکٹر، وسطی سیکٹر اور مغربی سیکٹر۔ مغربی سیکٹر میں جہاں لداخ واقع ہے یہ تنازع جانسن لائن پر ہے جو انگریز دور میں 1860ء میں وضع کی گئی تھی۔ بھارت اس لائن کو تسلیم کرتا ہے لیکن چین اسے سرحد نہیں تسلیم کرتا اور وہ لداخ کے موجودہ بھارتی خطے کے کئی علاقوں کا دعویدار ہے۔ اکسائی چن کا علاقہ چین کے پاس ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کے فوجی کنٹرول لائن عبور کر کے کئی بار انڈیا کے زیر انتظام علاقے میں آئے ہیں۔ کئی مرتبہ چین کے ہیلی کاپٹر بھی انڈین فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

تنازع کو حل کرنے کیلئے بھارت اور چین کے درمیان برگیڈیئر سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ 15 اگست 2015ء کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اسی علاقے میں ایک بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس میں لاتوں، گھونسوں اور سریوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا تھا جس سے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق بھارتی فوج اگلے ماہ ریاست ارونا چل پردیش میں بڑی فوجی مشقیں ”ہم وجے“ کرے گی جس میں اپنی نئے فورس انٹی گریٹڈ بیٹل گروپس آئی بی جیز کی جنگی صلاحیتوں کی آزمائش کی جائے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں 15 ہزار فوجی حصہ لیں گے جبکہ چین کو ان فوجی مشقوں سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ لداخ کے اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سیاچن گلیشیئر کا مشہور اور اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم علاقہ بھی اس خطے میں ہے، جسے عسکری ماہرین 'دنیا کا بلند ترین میدان جنگ‘ بھی کہتے ہیں۔ اس گلیشیئر اور اس سے ملحقہ علاقے میں بھارت اور اس کے حریف ہمسایہ ملک پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

دنیا کا یہ بلند ترین میدان جنگ سطح سمندر سے 6,700 میٹر یا 22,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور نئی دہلی اور اسلام آباد میں ملکی حکومتوں کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں ان ممالک کے جتنے بھی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ان میں انتہائی شدید نوعیت کے موسمی حالات کے باعث ہونے والی ہلاکتیں مسلح فوجی جھڑپوں میں ہونے والے جانی نقصانات سے زیادہ تھیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...