اعجاز جاکھرانی کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس 

  اعجاز جاکھرانی کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس 

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے نیب تحقیقات اور نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق مشیر جیل خانہ جات اعجاز علی جاکھرانی کی درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل نیب کو 29اکتوبر کیلئے نوٹس جاری کر دیا۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو نیب تحقیقات اور نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق مشیر جیل خانہ جات اعجاز علی جاکھرانی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ اعجاز جاکھرانی بیمار ہیں اورعلاج کیلیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ ایان علی، مشرف اور شہباز شریف کیسز کی روشنی میں نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ عجاز جاکھرانی کراچی کی کسی انکوائری میں مطلوب نہیں۔ اعجاز جاکھرانی کیخلاف ایک سکھر اور دوسری اسلام آباد میں تحقیقات چل رہی ہیں۔ اعجاز جاکھرانی کیخلاف سکھر میں اثاثہ جات میں انکوائری چل رہی ہے۔ اعجاز جاکھرانی جعلی بینک اکاوئنٹس کیس اسلام آباد میں مطلوب ہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ نیب اسلام آباد کہہ چکی کہ میرا موکل جعلی اکاوئنٹس کیس میں مطلوب نہیں۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر اعجاز جاکھرانی ضمانت پر ہے تو چھاپے کے بجائے نوٹس سے بلا سکتے تھے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو 29 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔ مشیر جیل خانہ جات اعجاز جاکھرانی نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ نیب نے میرے گھر پر چھاپا مارکر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ میں نیب کے ساتھ انکوائری میں تعاون کر رہا ہوں۔ مجھے بلاتے میں خود چلا جاتا گھر پر چھاپا مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے پتا ہے یہ سب کون کروا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے مخالف کے کہنے پر یہ سب کر رہے ہیں کیونکہ 14تاریخ کو میرے حلقے میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا فیصلہ ہونا ہے لہٰذاوہ خوف زدہ ہیں کہ ان سے قاسم سوری کی طرح یہ سیٹ بھی نہ چلی جائے۔

 نوٹس جاری

مزید : صفحہ آخر


loading...