حاملہ خواتین کیلئے ایمبولینس سروس بند‘ مسائل میں اضافہ‘ شہریوں کا مظاہرہ

حاملہ خواتین کیلئے ایمبولینس سروس بند‘ مسائل میں اضافہ‘ شہریوں کا مظاہرہ

  

قصبہ کالا (نمائندہ پاکستان)سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے نے حاملہ خواتین کی سہولت کے لیے گھر سے قریب ترین مرکز صحت میں منتقل کرنے کے لئے 1034 ایمبولینس سروس کا آغاز کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے 7 اکتوبر سے 1034ایمبولنس سروس کا بجٹ بند کر دیا ہے جس کے سبب ڈیلیوری والے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے جب ہیلپ لائن 1034 پر رابطہ کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے ایمبولینس مصروف ہیں اس بارے میں جب تحقیق کی توانکشاف ہوا ایمبولنس مقررہ سٹیشن پر(بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

 موجود ہوتی ہیں لیکن پٹرول پمپ مالکان نے ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پٹرول کی فراہمی بند کر دی ہے اس وقت ڈیرہ غازی خان میں شاہ صدر دین کا تو ویسے ہی اللہ حافظ ہے یہاں 1034ایمبولینس سروس کا سٹیشن ہی موجود نہیں جبکہ کوٹ مبارک،چھابری،شادن لُنڈ،سمینہ،معموری،ناڑی،مکول کلاں،شیرو  دستی،غوث آباد،ٹبی قیصرانی سمیت دیگر اسٹیشن بجٹ نہ ہونے کی بنا پر بند کر دیئے گئے ہیں۔شہریوں کو کہنا ہے محکمہ صحت کی جانب سے 1034ایمبولنس سروس کا آغاز بہت اچھا اقدام تھا جس میں حاملہ خواتین کی سہولت کے لئے گھر سے قریب ترین مرکز صحت میں منتقل کرنا اور کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں منتقل کیا جانا ہے۔اور اگر حاملہ خاتون کو 6گھنٹے سے زائد ہسپتال میں رکنے کی صورت میں واپس گھر تک چھوڑنے کی سہولت بھی میسر کی جاتی ہے۔اور اگر رات کو بھی حاملہ خواتین کی ڈیلیوری کی صورت میں گھر منتقل کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسی عوام دو سروس کا بند ہونا لمحہ فکریہ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار سے درخواست ہے محکمہ صحت کی عوام دوست پالیسی پر عمل جاری رکھتے ہوئے حاملہ خواتین کے لئے 1034 ایمبولینس سروس کا بجٹ بحال کیا جائے۔اس سلسلے میں شہریوں نے حکومت کیخلاف احتجاج کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -