وزیر اعظم شکایت سیل ریلوے شعبہ کمرشل کیلئے عذاب

وزیر اعظم شکایت سیل ریلوے شعبہ کمرشل کیلئے عذاب

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم شکائت سیل ریلوے شعبہ کمرشل کیلئے عذاب بن گیاہے نہ توشکائت درج کروانے والا اورنہ ہی شکائیات سیل سے ریلوے کوشکائت کے ازالہ کیلئے مراسلہ بھجوانے والا ریلوے قواعدسے واقف ہوتاہے۔شعبہ کمرشل کے افسران اورسٹاف دن بھرشکائیات (بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

کے جوابات ہی دینے میں گزاردیتے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ وزیراعظم پورٹل پرچھوٹے اسٹیشن جہاں ریزرویشن دفاترنہیں ہیں اورمسافرٹرینوں کاایک سے دومنٹ کاسٹاپ ہے ریزرویشن کوٹہ یاتوہے ہی نہیں یاپھرایک سے دوسیٹوں یابرتھوں کاہے اس طرح کے اسٹیشنوں پربامشکل 5سے10مسافرٹرین کی آمد پرموجودہوتے ہیں ریلوے قواعدکے تحت اس طرح کے اسٹیشنوں پرٹرین کی آمدسے آدھاگھنٹہ قبل بکنگ آفس کھول کراوپن ٹکٹ دئیے جاتے ہیں تاہم ان اسٹیشنوں کے مسافربھی شکائت درج کروادیتے ہیں کہ بکنگ آفس بندرہتے ہیں جبکہ مسافراسٹیشن پرموجوداسٹیشن ماسٹرسے بھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اسی طرح وہ مسافرجوملتان سمیت دیگربڑے اسٹیشنوں کے ریزرویشن دفاترسے کیمپوٹرائزڈٹکٹ حاصل کرتے ہیں وہ اپنی مرضی سے ملتان کے کوٹہ کی ٹکٹ نہ ملنے پرخانیوال یاکسی اوراسٹیشن کے کوٹہ پرآئن لائن رزیزرویشن کروالیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ٹکٹ پرکوٹہ والے اسٹیشن کاکرایہ لیاجاتاہے تاہم بعدازاں یہ مسافربھی وزیراعظم شکایات سیل پراووچارجنگ کی شکائت بھجوادیتے ہیں شکائت پرریلوے کوکاروائی کے لئے مراسلہ بھجوانے والے وزیراعظم شکایات سیل میں تعینات سٹاف  معاملہ کی ابتدائی تحقیق کرنابھی گوارانہیں کرتاکہ شکائت درست ہے یاغلط اورکاروائی کے لئے مراسلہ ریلوے انتظامیہ کوبھجوادیتاہے اسی طرح دیگربے بنیادشکایات کے جوابات دیناریلوے انتظامیہ کیلئے عذاب بناہواہے۔ریلوے ملازمین نے اس صورت حال پروزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ صرف ان ہی شکایات کوبھجوایاجائے جن میں ریلوے قواعدکے برعکس کسی کی حق تلفی ہوئی شکایات سیل میں ابتدائی چھان بین کانظام ہوناچاہیے۔تاکہ ملازمین کے وقت کاضائع نہ ہو۔ 

عذاب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -