لاہور ہائیکورٹ‘ ملتان میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ کا پہلا کیس دائر

  لاہور ہائیکورٹ‘ ملتان میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ کا پہلا کیس دائر

  

ملتان (خبر نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ملتان میں قائم عدالت میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ کا پہلا کیس دائر ہوگیا،کیس میں ملوث ملزم نے عدالت سے ضمانت کے لیے رجوع کیا جس پر عدالت نے ایف آئی اے سے آج 10 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔ تفصیل کے مطابق الیکٹرانک کرائم کے کیسز کی شنوائی کے لئے پہلی بار ملتان میں عدالت قائم ہوئی ہے۔جنوبی پنجاب کے سائلین کو اسے سے(بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

قبل لاہور جانا پڑتا تھا لیکن اب عوام کو لاہور کی بجائے ملتان میں ہی انصاف ملے گا۔ یہ عدالت وہاڑی، خانیوال، لودھراں، ڈی جی خان، لیہ، مظفرگڑھ، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے سائلین کے لیے بنائی گئی ہے جو ملتان میں کیس دائر کرسکتے ہیں، ایڈیشنل سیشن جج محمد نواز بھٹی الیکٹرانک کرائم ایکٹ کیسز کی جوڈیشل کارروائی کریں گے، جبکہ سینئر سول جج برائے کریمنل ڈویثرن شہنشاہ رضا کمال بطور علاقہ مجسٹریٹ معاونت کریں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا،تاہم گزشتہ روز پہلی بار عدالت سے ملزم ولی حیدر نے ضمانت کے لئے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت ایف آئی اے ملتان نے مقدمہ درج کیا اور الزام عائد کیا کہ ملزم غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج چلا رہا تھا،جبکہ وہ بے گناہ ہے اس لیے ضمانت منظور کی جائے جس پر فاضل عدالت نے ایف آئی اے حکام سے آج جواب طلب کرلیا ہے۔

الیکٹرانک کرائم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -