جج کو جس منصب پر بٹھا یا گیا اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہئے: چیف جسٹس اطہر من اللہ 

    جج کو جس منصب پر بٹھا یا گیا اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہئے: چیف جسٹس اطہر ...

  

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاہے کہ جج کو جس منصب پر بیٹھایا گیا ہے اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہیے،جج کو بغیر کسی سفارش کے غیر جانبدار طریقے سے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے،منصف کا آزاد منش ہونا عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کیلئے لازم ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ روز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک منصف کیلئے آزاد ہونا اس لیے ضروری ہے کہ وہ دیانتداری سے فیصلے کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی جج نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ وہ صرف پاپولر فیصلہ کرے وہ بھی درست نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ا یک جج پر کئی طرح کے طبقات اثر انداز ہو سکتے ہیں،  جج پر اثر طاقت ور قوتوں کا بھی ہوسکتا ہے،جج پر دوستوں رشتہ داروں کا بھی اثر ہوسکتا ہے،کسی منصف کے بارے میں پوچھنا ہو تو اس کی بار سے معلوم کرلیں۔ انہوں نے کہاکہ منصف کا آزاد منش ہونا عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لازم ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں بیرون ملک گیا تو میرے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا ہوا، ایک نہیں سو بار میرے بارے میں پراپیگنڈا کریں،میں نہ سوشل میڈیا دیکھتا ہوں نہ اْس کا اثر لوں گا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ میری وفاداری اپنے حلف کے ساتھ ہی رہے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم روز لوگ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں کئی لوگوں سے سوال پوچھ چکا، ہر ایک سے پوچھا وہ ایک مومن بتائیں جس نے نچلی عدالتوں میں سچی گواہی دی ہو۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس اسلامی معاشرے میں ابھی تک ایک وہ شخص کسی نے نہیں دکھایا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ضلع کچہری اسلام آباد کی دکانوں میں قائم ہے، کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی اس کا کچھ کرے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومتوں کی بھی ترجیح میں یہ عدالتیں شامل نہیں رہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ 

مزید :

صفحہ اول -