حکومتیں اور انڈسٹریز پانی سے متعلق تجاویز بناکر پیش کریں: سپریم کورٹ

    حکومتیں اور انڈسٹریز پانی سے متعلق تجاویز بناکر پیش کریں: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس میں ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومتیں پانی سے متعلق تجاویز اٹارنی جنرل کے پاس جمع کروائیں،انڈسٹریز پانی سے متعلق پروپزل بنا کر صوبائی حکومتوں کو فراہم کرے،صوبائی حکومتیں کمپنیوں کے پروپزل کو عدالت میں پیش کریں۔ سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ صوبائی حکومتوں نے پانی کی قیمت سے متعلق قانون کے حوالے سے سفارشات دینا تھیں، صوبوں کی جانب سے تاحال سفارشات موصول نہیں ہوئیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ پنجاب کابینہ واٹر ایکٹ کی منظوری دے چکی ہے۔ فیصل چوہدری نے کہاکہ واٹر ایکٹ منظوری کیلئے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اے جی سندھ حکومت نے کہاکہ جب تک کیبنٹ منظوری نہیں دیتی اس وقت تک ہم کوئی بھی تجویر اٹارنی جنرل کو نہیں بھیج سکتے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کے جو بھی تحفظات ہیں پہلے اپنے طور پر طے کریں پھر اٹارنی جنرل کو بھجیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سندھ حکومت کی جانب سے ابھی تک تفصیلات اٹارنی جنرل کو نہیں بھیجی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پنجاب حکومت نے تو تمام ڈسٹرکٹ کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں،سندھ حکومت نے ابھی تک کیوں کچھ نہیں کیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ تین صوبے متفق ہو چکے ہیں صرف سندھ حکومت نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ پنجاب میں 75 فیصد پانی کے میٹر لگ چکے ہیں،لاہور اور فیصل آباد میں میٹرز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔سرکاری وکیل نے کہاکہ سندھ حکومت نے چار مختلف سفارشات دی ہیں، سندھ میں پانی کے حوالے سے پہلے پی قانون موجود ہے۔ وکیل سندھ حکومت نے کہاکہ کراچی میں پانی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے مسائل فی الحال اٹارنی جنرل آفس سے حل نہیں ہو سکیں گے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے۔ وکیل صوبائی حکومت نے کہاکہ کے پی کے میں متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ وکیل کے پی حکومت نے کہاکہ صنعتوں کا مفاد بھی دیکھنا ہے عدالت سے سختی کی نہ کرنے کی استدعا ہے۔ڈاکٹر احسن صدیقی چیئر مین واٹر کمیشن نے کہاکہ سندھ میں ایک ہزار گیلن پانی کے 50 پیسے دیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر احسن صدیقی نے کہاکہ اس پانی کا 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ایک لیٹر پانی50 روپے کا سیل کرتے ہیں،اس 50 روپے میں سے ایک روپیہ آپ حکومت کو دیں۔ وکیل کمپنی علی ظفر نے کہاکہ ایک لیٹر پر ایک روپیہ زیادہ رقم ہے۔ ایک لیٹر پانی کی بوتل پر ہمارا منافع 5 روپے سے بھی کم ہے۔ وکیل کمپنی نے کہاکہ 5 روپے سے کم منافع پر ہم 19 روپے ٹیکس کیسے ادا کریں،ہم جو جوس بناتے ہیں اس میں 70 فیصد سے کم پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ چیئر مین واٹر کمپنی ڈاکٹر احسن صدیقی نے کہاکہ جوس میں 96 فیصد پانی استعمال ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کے جو تحفظات ہیں ڈرافٹ بنا کر صوبائی حکومتوں کو فراہم کریں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

پانی کیس

مزید :

صفحہ اول -