مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادیں ، پاکستان اور چین کا اعلان ، ہانگ کانگ، بیجنگ کا اندرونی معاملہ ، کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں : عمران خان

مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادیں ، پاکستان اور چین کا اعلان ، ہانگ ...

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان مشکل اقتصادی حالات سے نکل چکا ہے ، اس حوالے سے چین کے مالی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر ینگے ،پاکستان اورچین ہر طرح کے موسموں کے دوست اور تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں پاک چین تعلقات ، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے تنازعہ کشمیر پر اصولی مو¿قف اپنانے پر چین کے صدر اور ان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات میں چین نے ہر سطح پر ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے چین کے صدر کو ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں بتایا اور کہا کہ پاکستان مشکل اقتصادی حالات سے نکل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم چین کے مالیاتی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین نے ہمارے قومی مفادات کی معاونت کرنے پر ہم سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا اور پاکستان کی غیر مشروط معاونت کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ چین نے پاکستان کو مشکل اقتصادی صورتحال سے نکلنے کے لئے ایک موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) فریم ورک کے تحت چین کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اورچین ہر طرح کے موسموں کے دوست اور تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں۔۔ انہوں نے اپنے اور وفد کے پروقار استقبال پر صدر شی جن پنگ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق چین نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے ، یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، ایک پرامن، مضبوط تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاءتمام فریقین کا مشترکہ مفاد ہے اور فریقین کو خطے میں تنازعات اور مسائل مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان نے کہاہے کہ گوادر بندرگاہ میں بہت سی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں خطے میں تجارتی و تذویراتی مرکز بن سکے گا، آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے نویں اجلاس سے جاری منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز ہو گی اور ایم ایل ون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی،چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک انقلابی منصوبہ ہے، سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی کی نگرانی کےلئے سی پیک اتھارٹی قائم کی ہے، خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ای کے شعبہ میں تعاون سے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مزید وسعت ملے گی اور اس کی برآمدی بنیاد میں تنوع پیدا ہو گا، چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر تیز عملدرآمد سے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میںؒ کہاگیاکہ وزیراعظم عمران خان نے عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی دعوت پر 8 اور 9 اکتوبر کو چین کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین لی ژان شو سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کے کاروباری رہنماﺅں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ دونوں ممالک کے رہنماﺅں نے باہمی دلچسپی کے وسیع البنیاد دو طرفہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ ملاقاتوں میں روایتی گرمجوشی، باہمی اتفاق رائے اور سٹرٹیجک اعتماد کی بھرپور عکاسی نظر آتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ ہارٹیکلچر ایکسپورٹ 2019ءمیں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ وزیراعظم نے چین کی قیادت اور عوام کو عوامی جمہوریہ چین کے 70 ویں قومی دن پر مبارکباد دی۔ انہوں نے چین کی شاندار ترقی کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ اصلاحات اور چین کو کاروبار کیلئے کھولنا ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی قوم نے اپنی مثالی قیادت میں قومی ترقی کو حقیقت میں بدل دیا ہے، 4 نومبر 2018ءکے مشترکہ اعلامیہ کا ذکر کرتے ہوئے جس میں چین اور پاکستان کے درمیان اہم دو طرفہ اتفاق رائے کا خاکہ پیش کیا گیا، فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جس کا مقصد نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی تعمیر کرنا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط دوستی اور سٹرٹیجک شراکت داری، قریبی تعلقات جن سے دونوں ممالک اور ان کے عوام کے بنیادی مفادات کے تحفظ اور علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔پاکستان کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک انقلابی منصوبہ ہے، سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی کی نگرانی کے لئے سی پیک اتھارٹی قائم کی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے قرار دیا گیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں صنعتی، سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ پاکستان کی جانب سے بتایا گیا کہ گوادر بندرگاہ میں بہت سی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں یہ خطے میں تجارتی و تذویراتی مرکز بن سکے گا۔ اس موقع پر دونوں اطراف سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سی پیک کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا تاکہ اس کی نمو کی صلاحیت سے مکمل طور پر استفادہ کیا جا سکے اور اسے بی آر آئی کے لئے اعلیٰ معیار کا منصوبہ بنایا جا سکے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے نویں اجلاس سے جاری منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز ہو گی اور ایم ایل ون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ فریقین نے زور دیا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ای کے شعبہ میں تعاون سے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مزید وسعت ملے گی اور اس کی برآمدی بنیاد میں تنوع پیدا ہو گا۔ دونوں ممالک نے بجلی، پٹرولیم، گیس، زراعت، صنعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پاکستان کی جانب سے نشاندہی کئے گئے منصوبوں کی مشترکہ سٹڈی پر اتفاق کیا۔ یہ منصوبے جوائنٹ کو آرڈینیشن کمیٹی مزید غور و خوض کے لئے متعلقہ مشترکہ ورکنگ گروپس کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری، خزانہ، دفاع و سلامتی، تعلیم، زراعت، سماجی شعبہ، عوامی سطح پر رابطوں اور ثقافتی تعلقات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر تبادلہ خیالات کیا۔ دونوں ممالک نے سسٹر سٹی تعلقات کے بارے میں اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے نومبر 2019ءمیں اسلام آباد میں ایک بڑا ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور عوامی رابطے مزید گہرے ہوں گے۔ فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے امور پر اپنی حمایت کے عزم کو دہرایا۔ چینی رہنماﺅں نے پاکستان کی علاقائی خود مختاری، آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے یکجہتی کا اعادہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے بھی ون چائنہ پالیسی کیلئے حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ایک ملک دو نظام کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے اس امر کو دہرایا کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہے اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیادی اقدار برقرار رکھنی چاہئیں۔ پاکستان کی قیادت نے چین کی قیادت کو جموں و کشمیر کی صورتحال، اپنے خدشات، موقف اور موجودہ فوری نوعیت کے معاملات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ چین نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر مناسب اور پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے۔ چین نے کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی جن سے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہو۔ فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ ایک پرامن، مضبوط تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاءتمام فریقین کا مشترکہ مفاد ہے اور فریقین کو خطے میں تنازعات اور مسائل مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی شبعہ میں تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس موقع وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی طلباءکو چین میں تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کرنے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ طلباءدونوں آہنی بھائیوں کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں مسلسل تعاون پر چین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر تیز عملدرآمد سے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون کی متوازن و پائیدار ترقی کے لئے چین پاکستان مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیشن سے مکمل طور پر استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ بہترین دفاعی تعاون کا بھی جائزہ لیا اور فوجی مشقوں، تربیتی تعاون، عملے کے تبادلہ اور آلات و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام علاقائی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے اور 7 ستمبر 2019ءکو اسلام آباد میں تیسرے چین افغانستان۔پاکستان وزرائے خارجہ بات چیت کے اہم نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چین نے افغانستان میں امن کے فروغ اور مصالحتی عمل کے ضمن میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ فریقین نے کہا کہ افغانوں کی قیادت میں اور افغانوں کے ذریعے امن عمل افغانستان میں امن و استحکام کی کنجی ہے۔ دونوں اطراف نے دہشت گردی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا اور تمام ممالک پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کریں۔ چین نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کیلئے دی جانے والی زبردست قربانیوں اور انتھک کوششوں کو سراہا۔ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو واضح طور پر تسلیم کرے۔ فریقین نے دونوں ممالک کے مابین مختلف فورمز پر قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تزویراتی رابطہ اور مشاورت کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ فریقین نے اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے حصول کیلئے اپنے عزم اور سب کے مفاد میں کثیر الجہتی تعاون کی حمایت کی۔ دورے کے دوران وزیراعظم لی کی کیانگ اور وزیراعظم عمران خان نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے۔پاک چین مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، افغانستان میں امن خطے کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ دونوں اطراف نے چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ مذاکرات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔چین نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ افغان لوگوں کی قیادت اور خواہش کے مطابق امن عمل سے افغانستان میں امن واستحکام آئے گااس موقع پر صدر شی جنگ پنگ نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادا کے لیے چین کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط چٹان کی مانند ہیں جو مستقبل میں مزید وسعت پائیں گے علاوہ ازیں انہوں نے سماجی و معاشی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں قبل ازیں صدر شی جنگ پنگ نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

عمران دورہ چین

مزید :

صفحہ اول -