رو س نے ٹرمپ کو جتوانے کیلئے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی 

رو س نے ٹرمپ کو جتوانے کیلئے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی 

  

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ کے 2016ء کے صدارتی انتخابات کے روز ماسکو میں انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (آئی آر اے) کے ہیڈ کوارٹرز میں موجود دو روسی کارندوں نے شمپین کی ایک بوتل کھول کر جشن منایا۔ انہوں نے امریکہ کے خلاف روس کی انفارمیشن جنگ کی فرنٹ لائن پر صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے کیلئے کئی ماہ سے جو محنت کی تھی وہ اب رنگ لا رہی تھی۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ سوشل میڈیا پر امریکی ووٹروں کو متاثر کرنے کیلئے اختلافی پیغامات پوسٹ کرائے تھے۔ یہ کہانی اس تحقیقاتی رپورٹ میں شامل ہے جو سینیٹ کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں کے ارکان پر مشتمل انٹیلی جنس کمیٹی نے تیار کی تھی جس کے چیئرمین ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رچرڈ بر ہیں۔ فارن پالیسی جریدے نے اپنی تازہ اشاعت میں اس رپورٹ کے مندرجات کا انکشاف کیا ہے جس کی اہمیت یہ ہے کہ اس کی تیاری میں مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ حکمران ری پبلکن پارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں شواہد کے ساتھ تصدیق کی گئی ہے کہ روس نے انفارمیشن مہم کے ذریعے گزشتہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرانے کے لئے کام کیا۔ انٹیلی جنس کمیٹی نے ماسکو میں آئی آر اے کے دو اہلکاروں کی کہانی کیسے حاصل کی اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے منگل کے روز اپنی طویل تحقیقات کے نتائج پر مشتمل رپورٹ کی دوسری جلد مکمل کر کے ریکارڈ میں شامل کی۔ فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ ان روسی اہلکاروں کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ خاص سوچ رکھنے والے امریکی ووٹروں کا انتخاب کر کے نسلی منافرت اور متنازعہ مسائل پر ایسے پیغامات سوشل میڈیا کے ذریعے ان کو بھجواتے جس کا فائدہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اور نقصان ہیلری کلنٹن کو پہنچتا تھا۔ فرضی اکاؤنٹوں کے ذریعے ایسے سیاسی پیغامات کی بوچھاڑ کی جاتی جن سے متاثر ہو کر ووٹر ٹرمپ کو ووٹ دینے کیلئے راغب ہوئے۔ ری پبلکن پارٹی کے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رچرڈ بر کا ایک بیان بھی رپورٹ میں شامل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ روس نے امریکہ کے خلاف جو انفارمیشن جنگ کی مہم چلا رکھی ہے وہ نہ تو 2016ء کو شروع ہوئی تھی اور نہ ہی 2016ء کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ ان کا مقصد وسیع تر ہے جو یہ ہے کہ حکومت کی مشینری میں عوام کے اعتماد کو ختم کر کے سماجی اختلاف کے بیج بونا۔ کیپٹل ہل میں دونوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے اشتراک سے تیار ہونے والی اس رپورٹ میں روسی مداخلت کی توثیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل ولیم بر کو بیرون ملک دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے بارے میں ایف بی آئی کی تحقیقات کو مشکوک بنا کر مداخلت کا زیادہ تر الزام یوکرائن پر ڈالا جائے۔ منگل کے روز ریکارڈ پر آنے والی سینیٹ رپورٹ میں اگرچہ کوئی نئے بڑے انکشافات شامل نہیں ہیں لیکن یہ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان ٹرمپ کے مواخذے کی انکوائری کرنے میں مصروف ہیں۔ اس تحقیقات میں یہ کھوج لگایا جا رہا ہے کہ کس طرح صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھی اپنے مخالفین پر سیاسی گرد ڈالنے اور ٹرمپ کی صدارتی مہم میں روس کے ملوث ہونے کے بارے میں امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی کے تفتیشی نتائج کے مرکزی نکات کو غیر معتبر قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مواخذے کی انکوائری صدر ٹرمپ کی اپنے یوکرائن کے ہم منصب کے ساتھ خفیہ ٹیلی فون کال پر مرکوز ہے جس میں صدر ایک سازشی تھیوری تیار کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہو کر ای میلز کو چرا کر منکشف کرنے کی کارروائی روس کی بجائے یوکرائن نے کی تھی۔ فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ سینیٹ رپورٹ کے مطابق روس کی مداخلتی مہم کے دو اہم پہلو تھے۔ پہلی کوشش روس کی ملٹری انٹیلی جنس کے ایک شعبے جی آر یو کے ذریعے کی گئی اور اہم سیاسی لیڈروں کے ای میل اکاؤنٹس کو بریک کیا گیا اور ان کے مندرجات کو آئن لائن ظاہر کیا گیا۔ دوسری کوشش آئی آر اے کے ذریعے کی گئی جس میں امریکی ووٹروں کے نظریات پر تفتیش کر کے ان کو نسلی منافرت اور متنازعہ مسائل پر مواد پوسٹ کر کے ٹرمپ کے حق میں راہ ہموار کرنا شامل تھا۔ رپورٹ میں انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی(آئی آر اے) کی مہم کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ ایجنسی نے خفیہ ذریعے سے فیس بک پر اشتہار دیئے جن کا 66 فیصد حصہ کا تعلق سیاہ فارم امریکی باشندوں سے تھا۔ ان کو نسلی منافرت کے پیغامات پہنچا کر صدر ٹرمپ کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ روس کی ڈیجیٹل مداخلت کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔

اظہر زمان

مزید :

صفحہ اول -