مریم نواز اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع

    مریم نواز اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 23اکتوبر تک توسیع کردی جبکہ انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج خالد بشیر نے منشیات کیس میں ملوث پاکستان مسلم لیگ (ن) ے راہنما رانا ثنا ء اللہ کے کیس کی سماعت 18اکتوبر تک ملتوی کردی،عدالتی حکم پررانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے وقت سیف سٹی کی بننے والی فوٹیج اور رپورٹ عدالت پیش ہونے پر فاضل جج نے مدعی مقدمہ کو بھی آئندہ سماعت پرطلب کرلیاہے۔احتساب عدالت کے جج نے مریم نوازکی پیشی پرکارکنوں کی جانب سے نعرے بازی پراظہاربرہمی کیا،فاضل جج نے کہا کہ کمرہ میں سارا عدالتی ریکارڈ موجود ہے جس کو نقصان کا خدشہ ہے،عدالت نے ڈی ایس پی کوبلاکرکہا کہ پولیس ملزم اور وکلاء کے علاوہ تمام افراد کو باہر نکال دیا جائے۔احتساب عدالت میں چودھری شوگر ملزکیس میں سماعت شروع ہوئی تو مریم نوازاوران کے کزن یوسف عباس کوعدالت میں پیش کیاگیا، پراسیکیوٹر نیب کی جانب سے عدالت کوبتایا گیا کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات ہو رہی ہیں تفتیش مکمل ہونے پر ریفرنس دائر کر دیا جائے گا، ملزموں کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی جائے، جس پرعدالت نے ملزموں کی حاضری مکمل کرنے کے بعد مذکورہ بالاحکم کے ساتھ سماعت ملتوی کردی،فاضل جج نے وکلاء کو ملزموں سے مشاورت کیلئے علیحدہ کمرے میں ملاقات کی اجازت دے دی،دوران سماعت فاضل جج نے کمرہ عدالت میں مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں بنانے پر برہمی کا اظہار کیا،فاضل جج نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے،آپ واپس اپنی جگہ پر چلی جائیں،آپ کی حاضری ہو گئی ہے آپ بیٹھ سکتی ہیں،فاضل جج نے کہا کہ سیکورٹی کا ایشو ہے رش نہ لگایا جائے،عدالت کے بار بار منع کرنے کے باوجود لیگی کارکنوں کا عدالت میں شور شرابا جاری رہا جس پر عدالت نے ڈی ایس پی کو بلوا کر کارکنوں کو عدالت سے باہر نکلوادیا،عدالت میں مریم نواز کے وکلا ء نے اہلمد کے روم میں مریم نواز کے ساتھ مشاورت کی اجازت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا،عدالت نے حکم دیا کہ آپ ملاقات کر لیں مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس میں کوئی دوسرا نہ ہو،علیحدہ کمرہ میں مریم نواز کے ساتھ اضافی افراد کے جانے پر عدالت برہم بھی ہوئی،عدالت نے مذکورہ بالاحکم کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔علاوہ ازیں انسدادمنشیات کی خصوصی عدالت کے ڈیوٹی جج خالدبشیرنے انا ثنا اللہ کے کیس کی سماعت کی،گزشتہ روز سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے گاڑیوں کی فوٹیج اوررپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی،ملزم کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ کامدعی اورتفتیشی اے این ایف سے ہیں،قانون کے مطابق تفتیش آزادانہ ہونی چاہیے،سرکاری وکیل نے کہافردجرم عائدکی جائے تاکہ ٹرائل شروع ہو، اس دوران اینٹی نارکوٹکس پراسیکیوٹرچودھری کاشف جاوید اورراناثناء اللہ کے وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،عدالت نے وکلاء کی روزانہ کی بنیادپرسماعت کرنے کی دائردرخواست پرفریقین کو18اکتوبرکیلئے نوٹس جاری کردیئے ہیں،اے این ایف پراسکیوٹر نے ملزموں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی توملزم رانا ثناء اللہ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فوٹیج محفوظ کر لی گئی ہیں اور ہمارا اندیشہ ختم ہو گیا ہے،بیگ نکالا اور اس کے خفیہ خانے سے منشیات نکالنے کا کہا گیا ہے،یہ تمام سٹوری جھوٹی ہے، موٹر وے سے ساڑھے 15 کلو میٹر دور 3 بج کر 35 منٹ پرروٹ ہمارے پہلے موقف کو سپورٹ کرتا ہے، رانا ثناء اللہ کا موقف سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد سچ ثابت ہوا ہے، باقی تو یہاں جنگل کا قانون ہے، پراسکیوٹر اے این ایف نے کہا کہ یہ جو کارروائی ہو رہی ہے کس قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے، اگر ڈیوٹی جج ٹرائل سن سکتا ہے تو پھر ملزموں پر فرد جرم عائد کر دی جائے، یہ باہر جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، اس کیس کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ یہ بشیر بوٹا گاما نہیں ہے یہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں، اے این ایف کے وکیل نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، یہ قتل بھی کر دیں تو چرچا بھی نہیں ہوتا، سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق 30 دن تک ڈیٹا ختم ہو جاتا ہے، رانا ثناء اللہ کی طرف سے درخواست 30 روز گزرنے کے بعد دی گئی اور ڈیٹا بھی محفوظ رہا، باقی دنیا کے ساتھ 30 دن اور ان کے ساتھ 39 دن یہ کیا معاملہ ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ جس نے یہ سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی ہیں اس پر بھی جرح کرنے کی اجازت دی جائے، ٹرائل سے پہلے ٹرائل نہ کروایا جائے، پہلے ملزموں پر فرد جرم عائد کر دی جائے، یہ کوئی فوری نوعیت کا معاملہ نہیں ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ ہو گئی ہیں، ملزم کے وکیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 (اے)لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، ریاست ماں ہوتی ہے، پی ٹی اے کا نمائندہ آ کر کہہ دے کہ یہ سی ڈی آر محفوظ رہیں گی تو ہم مان لیں گے، رانا ثناء اللہ کے فون کی سی ڈی آر نہیں دی جا رہی، وہاں پر بھی ریڈ الرٹ لگایا گیا ہے، پراسیکیوٹر اے این ایف نے مزید کہا کہ ریاست میں ایک بندے کی قیمت میں 20 کروڑ بندوں کو بچانا ہے جس پرکمرہ عدالت میں اے این ایف پراسکیوٹر کے دلائل کے دوران شیم شیم کے نعرے لگے،جس پر پراسیکیوٹر اے این ایف نے اعتراض کیا اور عدالت سے کہا کہ یہ دیکھیں کمرہ عدالت میں نعرہ بازی کی جا رہی ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ میرے خیال میں اب عدالتیں ہی ایک فورم رہ گیا جہاں لوگ اپنا اظہار کر سکتے ہیں،فاضل جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے ساتھ 5 سے 7 افراد کو لے آیا کریں ورنہ ہم آرڈر کر دیں گے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ سر ہم بار کو تو نہیں روک سکتے، جس کے بعد ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے لیگی وکلاء کو خاموش رہنے کی ہدایت کر دی،ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ اگر یہ چاہتے ہیں کہ رانا ثناء اللہ کا ٹرائل ہو اور لوگوں کو پتہ چلے کہ رانا ثناء اللہ منشیات سمگلنگ میں ملوث ہیں تو سی سی ٹی وی فوٹیج خود پیش کرتے، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعدرانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ 18 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیاہے جبکہ ملزم رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔مریم نوازاورراناثنااللہ کی عدالتی پیشی کے موقع پرسابق وزیر پرویزرشید، سابق صوبائی اسمبلی کے سپیکررانااقبال،امیرمقام، شائشتہ پرویز ملک، طلال چودھری اوردیگررہنمااظہار یکجہتی کیلئے عدالت میں موجودتھے۔عدالتی سماعت کے بعد رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا فوٹیج نے سب واضع کردیا کہ ان کے خلاف جھوٹی کارروائی کی گئی،حکومت نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے پارٹی کے فیصلے کے ساتھ ہوں۔

مریم،یوسف،رانا ثناء

لاہور)کر ائم رپو ر ٹر مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے کہا ہے کہ جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی ہے اسی طرح چلی بھی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے احتساب عدالت میں چودھری شوگر ملز کیس میں پیشی کے بعد میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صحافی نے مریم نواز سے پوچھا کہ ایک وزیر نے نام لیے بغیر کہا کہ جیل میں ایک صاحبزادی سے موبائل برآمد ہوا اور اہم انکشافات سامنے آئے ہیں؟ جس پر مریم نواز نے موبائل فون کی برآمدگی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔مریم نواز نے کہا کہ شرم آنی چاہیے انہیں جنہوں نے الزام لگایا، آئی جی جیل نے تردید کردی ہے کہ مجھ سے کوئی موبائل برآمد نہیں ہوا۔ مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ 'جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی اسی طرح سے چلی جائے گی'۔ انہوں نے کہا کہ 'جس طرح جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اسی طرح دھاندلی زدہ حکومت کے پاؤں نہیں '۔علاوہ ازیں مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈصفدر نے کہا کہ محب وطن عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں ان کا جرم اتنا ہے کہ وہ آئین پاکستان اور جمہوریت سے پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کو وہ 27 اکتوبر کے دھرنے کی تیاری کریں۔

مریم نواز

مزید :

صفحہ اول -