صوبائی مشیر اعجاز جکھرانی کو چھاپا مار کر ہراساں کیا گیا، سعید غنی

صوبائی مشیر اعجاز جکھرانی کو چھاپا مار کر ہراساں کیا گیا، سعید غنی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیرِ اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ مشیرِ جیل خانہ جات اعجاز جکھرانی کو گھر پر چھاپا مار کر ہراساں کیا گیا۔ جو رہنما حکومت کی نالائقیوں کے خلاف بولتا ہے اس کے پیچھے نیب کو لگا دیا جاتا ہے۔بدھ کو مشیر جیل خانہ جات اعجاز جکھرانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے، ایک کیس پر ضمانت لیں تو نیا الزام لگا کر بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے، یک طرفہ احتساب کی بات کو سنجیدہ لینا چاہیے۔سعید غنی نے کہا کہ کل جس طرح اعجاز جکھرانی کے گھر پر چھاپا مارا گیا وہ قابلِ مذمت ہے، اعجاز جکھرانی نے الیکشن نتائج پر ٹریبونل سے رابطہ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اور چین میں اپوزیشن ہے ہی نہیں، وزیرِ اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سعودی عرب اور چین کے ماڈل کی خواہش کرتے ہیں۔وزیرِ اطلاعات سندھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور چیئرمین نیب چاہتے ہیں کہ ملک سے اپوزیشن کا نام و نشان مٹا دیا جائے، حسنین مرزا کے خلاف 40 کروڑ کا ریفرنس ہے ان کو نہیں پکڑا جاتا۔انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک، محمود خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف کیسز ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔سعید غنی نے کہا کہ حکومتی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سارا تماشہ رچایا جا رہا ہے، کل وزیرِ اعظم عمران خان نے چین جا کر 500 لوگوں کو گرفتار کرنے کی خواہش کی، جبکہ چیئرمین نیب سعودی طرز پر اختیارات کی خواہش کر رہے ہیں۔اس موقع پر مشیرِ جیل خانہ جات اعجاز جکھرانی نے کہا کہ جس طرح میرے گھر میں گھس کر کارروائی کی گئی اس طرح مارشل لا میں بھی نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے اعجاز جاکھرانی کے کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں خیابانِ قاسم، اسٹریٹ پر واقع گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا، جس کے دوران نیب کی 5 رکنی ٹیم نے کئی گھنٹے تک ان کے گھر کی تلاشی لی اور کئی فائلیں اور دستاویزات اپنے قبضے میں لیں۔

مزید :

صفحہ اول -