مقبوضہ کشمیر،کرفیو کو66 روز مکمل،معمولات زندگی درہم برہم

      مقبوضہ کشمیر،کرفیو کو66 روز مکمل،معمولات زندگی درہم برہم

  

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں سخت فوجی محاصرے کیوجہ سے مسلسل 66ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجی محاصرے کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل جبکہ تمام کاروباری ادارے بھی بند ہیں۔ سکول اور سرکاری دفاتر ویرانی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ادھر صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دوماہ کے لاک ڈاؤن سے مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ سرینگر کے معروف تاجر مشتاق احمد چایا نے کہاکہ وادی کشمیر میں تقریباً 3ہزار ہوٹل ہیں اوروہ سب خالی پڑے ہیں۔ انہیں قرضہ بھی ادا کرنا ہے اور روز مرہ کے اخراجات بھی پورے کرنے ہیں۔ سرینگر کے جھیل ڈل میں تقریباًایک ہزار ہاؤس بوٹس بھی خالی ہیں جبکہ صرف قالین سازی کے شعبے سے وابستہ 50ہزار سے زائد افراد بے روز گار ہوچکے ہیں۔ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مشہور وادی کشمیر کے سیب ابھی تک درختوں پر پڑے ہیں کیونکہ دکانیں اور سرد خانے بند ہونے کے باعث سٹور کرنے کی سہولت نہ ہونے اورٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے کاشتکار اپنے سیب وادی کشمیر سے باہرلے جانے سے قاصرہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر اکتوبر کے پورے مہینے میں یہی صورتحا ل برقرار رہی تو اس کے تباہ کن نتائج ہونگے۔ اطلاعات کے مطابق وادی کشمیر میں ہنر مند کاریگروں کی بھی کمی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد 4لاکھ سے زائد غیر کشمیری کاریگر علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وادی کشمیر کے عوام نے کشمیر کیلئے سفری پابندی اٹھانے کے گورنر کے احکامات کو مضحکہ خیز قراردیا ہے جس کی وجہ سیاح علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔انہوں نے کہاجب موبائل اور انٹرنیٹ سمیت تما م مواصلاتی ذرائع معطل ہیں ان حالات میں کون کشمیر آنا چاہے گا۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -