سپریم کورٹ ،آرے بازارراولپنڈی خودکش دھماکاکا 20 بارسزائے موت کامجرم بری

سپریم کورٹ ،آرے بازارراولپنڈی خودکش دھماکاکا 20 بارسزائے موت کامجرم بری
سپریم کورٹ ،آرے بازارراولپنڈی خودکش دھماکاکا 20 بارسزائے موت کامجرم بری

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرے بازار خودکش دھماکے کے 20 بار سزائے موت کے مجرم کو بری کردیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 11 ماہ بعد شناخت پریڈ لا رہے ہیں،کیا 11 ماہ بعد کسی کی شکل یاد رہتی ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ 2 پولیس اہلکاروں کو گواہ بنا دیا گیا،اتنے بڑے بازار میں اور کوئی گواہ نہیں ملا؟حلف اٹھایاہے،ہم نے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ،قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ ملوث ہونے میں ثابت کرنے کیلئے کچھ تو شہادت ہونی چاہئے،اتنے بڑے کیس میں اتنی کمزور شہادت لائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آرے بازارخودکش دھماکے میں معاونت پر20 بار سزائے موت کے مجرم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی، مجرم عمرعدیل پر خود کش بمبارکی معاونت کا الزام تھا ،راولپنڈی خودکش دھماکا2007 کے دوران ہواتھا ،خودکش دھماکے میں 20 افراد شہیداور36 زخمی ہوئے تھے ۔وکلا نے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور رجسٹری سے دلائل دیئے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ عام نہیں ٹارگیٹڈ دھماکا تھا، 3کارسواروں میں سے ایک بس میں داخل ہوا ،2 واپس چلے گئے،جب کار واپس چلی گئی تو بس میں دھماکا ہوگیا،عدالت نے کہا کہ گاڑی ٹریس ہوگئی ،11 ماہ تک سے کرائے پرلینے والے کانام سامنے کیوں نہیں آیا؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رینٹ اے کارکی رسید اصل تھی توپولیس کوپتہ تھا کارکس نے لی؟جسٹس طارق محمود نے کہا کہ پولیس کو نام پتا تھا تو ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کیا ؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ11 ماہ تک ملزم کی تلاش جاری رہی،جسٹس طارق محمود نے کہاکہ ملزم کا نام تو 11 ماہ تک ریکارڈ پرآیا ہی نہیں ۔

چیف جسٹس آصف سعید نے دوران سماعت اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت بڑا بیان دیاکہ کیس کوعام قانون کی طرح نہ پرکھیں،حکومت قانون میں تبدیلی کرے توہم اس کے مطابق دیکھ سکتے ہیں،جو قانون موجود ہے وہ سب کےلئے برابر ہے،ہم نے سب کےلئے اسی قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر آپ مخصوص قانون چاہتے ہیں توقانون سازی کروائیں،20 قیمتی جانیں چلی گئیں ،سرکارنے اچھا کیس نہیں بنایا، ان لوگوں کی قوم کےلئے قربانیاں ہیں ،قوم نے ان لوگوں کےلئے یہ کیس بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ11 ماہ بعد شناخت پریڈ لا رہے ہیں،کیا 11 ماہ بعد کسی کی شکل یاد رہتی ہے؟ 2 پولیس اہلکاروں کو گواہ بنا دیا گیا،اتنے بڑے بازار میں اور کوئی گواہ نہیں ملا؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حلف اٹھایاہے،ہم نے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ،قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ ملوث ہونے میں ثابت کرنے کیلئے کچھ تو شہادت ہونی چاہئے،چیف جسٹس نے کہا کہ اتنے بڑے کیس میں اتنی کمزور شہادت لائی گئی،اسی معاشرے میں رہتے ہیں،ہمارے عزیزوں کیساتھ بھی ایساہوتاہے،ایسا ہونے پربہت تکلیف ہوتی ہے مگرحلف یادآتاہے،ملزم کا کسی دہشتگرد تنظیم سے تعلق بھی ثابت نہیں ہوا،عدالت نے آرے بازارخودکش دھماکاکے 20 بارسزائے موت کے مجرم کو بری کردیا،عدالت نے عمرعدیل کو بری کرنے کا حکم دے دیا ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...