نواز شریف کو سمجھا یا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فائدہ نہیں،شہباز شریف نے آزادی مارچ کی مخالفت کردی ،ن لیگ دو دھڑوں میں تقسیم

نواز شریف کو سمجھا یا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فائدہ نہیں،شہباز شریف نے آزادی ...
نواز شریف کو سمجھا یا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فائدہ نہیں،شہباز شریف نے آزادی مارچ کی مخالفت کردی ،ن لیگ دو دھڑوں میں تقسیم

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ،شہباز شریف نے کھل کر مخالفت کردی،مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق اجلاس کے اختتام پر شہباز شریف دو گھنٹے تک بیٹھے اور اس موقع پر شرکا کی تنقید کا جواب دیتے رہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ آج دل کی باتیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،ن لیگ جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائی نقصان اٹھا یا ۔انہوں نے کہاکہ آصف نواز ،جہانگیر کرامت اور پرویز مشرف سے اختلاف کے موقع پر نواز شریف کو سمجھا یا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ 2013میں حکومت ملنے کے بعد نواز شریف کو سمجھا یا کہ پرویز مشرف کو جانے دو ،یہ بات احسن اقبال اور پرویز رشید کی موجودگی میں کی ،وہ بھی اس بات کے گواہ ہیں ۔شہباز شریف نے بتا یا کہ نواز شریف کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے الجھنے کے بجائے خدمت پر توجہ دینے کی بات کی ۔انہوں نے پارٹی اجازت کے بغیر کیپٹن صفدر کی جانب سے بیا نات دینے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا ۔اس موقع پر شرکا نے شہباز شریف کو مارچ کی قیادت کا مشور ہ دیا جس پر انہوں نے انکار کردیا اور احسن اقبال کو مارچ کی قیادت سونپ دی ۔اجلاس میں آزادی مارچ میں شرکت کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کی فہرستیں بھی تیار کی گئیں جو نواز شریف کو پیش کرنا تھیں تاہم شہباز شریف نواز شریف کو ملنے کے لیے جیل نہیں گئے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...