”نواز شریف سے بغاوت کر کے منصب لوں تو قبر میں بھی ۔۔۔“اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

”نواز شریف سے بغاوت کر کے منصب لوں تو قبر میں بھی ۔۔۔“اختلافات کی خبریں ...
”نواز شریف سے بغاوت کر کے منصب لوں تو قبر میں بھی ۔۔۔“اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن فیصلے کا اختیار نواز شریف کا ہی ہے ،نواز شریف مجھے جو حکم دیں گے وہی میرا فیصلہ ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے میری طرف سے بغاوت کا تصور بھی نا ممکن ہے ،نواز شریف سے بغاوت کر کے منصب لوں تو میری اولاد قبر میں بھی معاف نہیں کرے گی ،سیاست چھوڑ دوں گا نواز شریف سے اختلافات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ، چار بار وزیراعظم کی پیشکش ہوئی جسے ٹھکرا یا۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطا بق مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ،میٹنگ منٹس میں لکھا گیا کہ اکثریت آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی حامی ہے، اجلاس کے منٹس تحریری شکل میں نواز شریف کو بھیجے گئے، اجلاس میں اکثریت نے آزادی مارچ اور دھرنے میں شمولیت کی حمایت کی۔اجلاس میںشہباز شریف نے اپنے خدشات ، تحفظات کے باوجود نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا،نواز شریف کو دیے گئے اپنے مشوروں پر بھی شہباز شریف نے پارٹی رہنماوں کو آگاہ کیا،شہباز شریف نے بھٹو اور بے نظیر کی ٹکراو کی پالیسی کا انجام، سینیٹ الیکشن کی مثال اور ٹکراو¿ کی پالیسی سے اب تک ہونیوالے نقصانات سے بھی رہنماوں کو آگاہ کیا۔شہباز شریف نے اپنے موقف کے حق میں ماضی کی مثالیں دیں۔انہوں نے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ ، دھرنا مس فائر ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائیگی۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...