"شاہ سلمان نے اپنا دل پاکستان کو دیا ہوا ہے کیونکہ اُن کے تو دل کا ڈاکٹر بھی پاکستانی ہے"

"شاہ سلمان نے اپنا دل پاکستان کو دیا ہوا ہے کیونکہ اُن کے تو دل کا ڈاکٹر بھی ...

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے مجھے مولانا فضل الرحمان کے "توڑ" کے لئے معاون خصوصی مقرر نہیں کیا ،میرے ساتھ وزیر اعظم نے کبھی مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور اُن کی ذات بارے گفتگو نہیں کی،مولانا فضل الرحمان میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں،اُن کی اپنی سیاست ہے اور ہماری اپنی سیاست لیکن ہم کسی کے غلام نہیں،حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی لڑائی ہمیشہ چلتی رہتی ہے،مہنگائی میں اضافہ الارمنگ صورتحال ہے،حکومت معاشی طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لئے اپنی کوششیں کر رہی ہے، پاک سعودی تعلقات کو کسی کی نظر نہیں لگ سکتی،دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات انتہائی مضبوط ہیں،شاہ سلمان نے مجھے کہا تھا کہ میں نے تو اپنا دل بھی پاکستان کو دیا ہوا ہے کیونکہ میرے تو دل کا ڈاکٹر بھی پاکستانی ہے،پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی بڑی سازش کو ناکام بنایا ،دینی جماعتوں ،علمائے کرام اور تمام مکاتب فکر کو اب بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے،ملک بھر میں یونین اور تحصیل لیول پر امن کمیٹیاں قائم کر رہے ہیں،ملک میں فرقہ واریت پھیلانے اور غیر ملکی ایجنڈے کے تحت مسلکی فسادات پھیلانے والوں کے خلاف حکومت کوئی رعایت نہیں کرے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سختی کے ساتھ نبٹا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق "ڈیلی پاکستان آن لائن" کو دیئے جانے والے خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی لڑائی ہمیشہ چلتی رہتی ہے لیکن معاشی طور پر مہنگائی میں ہونے والا اضافہ اور دیگر چیزیں الارمنگ صورتحال ہے ،میرا خیال ہے کہ ان معاملات پر حکومت کی توجہ ہے ،اگر حکومت نے مہنگائی پر قابو پا لیا تو پھر اپوزیشن میں ابھی فی الوقت اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ  عمران خان کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان احتسابی عمل کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ،اُنہوں نے الزامات لگنے پر اپنے قریبی بندے جہانگیر ترین کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا،وہ بندہ  جو تحریک انصاف کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا تھا معافی تو اُسے بھی نہیں ملی تاہم میں سمجھتا ہوں کہ احتسابی عمل کو مزید شفاف اور بلا تفریق  ہونا چاہئے تاکہ کسی کو احتساب کے نظام پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے،نیب کے موجودہ چیئرمین کو تو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے مل کر لگایا تھا،اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت تو نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم نے مجھے مولانا فضل الرحمان کے "توڑ" کے لئے معاون خصوصی مقرر نہیں کیا ،میرے ساتھ وزیر اعظم نے کبھی مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور اُن کی ذات بارے گفتگو نہیں کی بلکہ کچھ عرصہ قبل میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ مولانا کا جو نام بگاڑتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے جس کے بعد وزیر اعظم نے کبھی مولانا کا نام بگاڑ کر نہیں لیا ،مولانا فضل الرحمان میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں،وہ ایک مذہبی سیاسی لیڈر ہیں لیکن میں کسی کا غلام نہیں ہوں ،ہماری اپنی ایک جماعت ہے ،ہم نےکبھی مولانا پراعتراض کیا کہ وہ کیوں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ دیتے ہیں؟کیا سیاسی اختلاف رکھنا جرم ہے؟اُن کی اپنی سیاست ہے اور ہماری اپنی سیاست،مولانا فضل الرحمان کا مقابلہ کرنے کے لئے عمران خان کے پاس اپنی بہت بڑی ٹیم ہے ،پنجاب میں تو مولانا کا نہ کوئی ایم این اے ہے اور نہ ہی ایم پی اے،اگر عمران خان نے مولانا کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی کو لانا ہوتا تو خیبر پختونخوا سے کوئی بندہ لاتے ۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ پاک فوج ،ہمارے سلامتی کے اداروں ،رینجرز ،پولیس اور علماء و مشائخ نے بڑی عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی سازش کو ناکام بنایا،جن عناصر نے ملک کے اندر فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی سازش کی ان کے خلاف شیعہ سنی دونوں اکٹھے ہو گئے ،ہم ایک سلوگن پر متفق ہیں کہ اس ملک میں اب توہین اور تکفیر نہیں ہونے دینی،دشمن اس آگ کو لگانا چاہتے ہیں،دشمن کا ہدف پاکستان کی فوج کو نشانہ بنانااور فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانا  ہے،یہ سازش ابھی ختم نہیں ہوئی ،اس سازش کو ناکام بنانے کے لئےہمیں جاگتے رہنا ہو گااور ہر ایسے شخص کو گریبان سے پکڑ کر سٹیج سے نیچے اتار دینا ہو گا جو قوم کو لڑائے اور تقسیم پیدا کرے،لبیا اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ملک تھا،وہاں خوشحالی تھی ،نہ پانی کا بل تھا اور نہ بجلی کا بل تھا ،اتنا مضبوط  ملک اس وقت تباہ ہو گیا جب وہاں کی فوج کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں کی قوم اور فوج کو آپس میں لڑا دیا گیا ،پاکستان میں بھی یہی سازش ہو رہی ہے لیکن ہم کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے ایک اور سوال کے جواب میں  کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات جتنے کل مضبوط تھے آج اُس سے زیادہ مضبوط ہیں اور آنے والے کل میں اور زیادہ مضبوط ہوں گے،سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ تو ڈپلومیسی کے ہیں اور نہ ہی سیاسی ،ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں ،سوچ اور فکر میں اختلاف ہو سکتا ہے،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سعودی اور پاکستان میں ایسا اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ اب ہمارا منہ دائیں طرف اور ان کا بائیں طرف ہے تو وہ بالکل غلط ہے ، مجھے خود خادم الحرمین الشریفین شاہ سلیمان نے کہا تھا کہ میں نے تو اپنا دل بھی پاکستان کو دیا ہوا ہے کیونکہ میرے تو دل کا ڈاکٹر بھی پاکستانی ہے اور میرے ساتھ محمد بن سلیمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میرے دل کے اندر ہے ،سعودی عرب کے ساتھ ہمارا لازوال تعلق ہےاور دونوں برادر ملکوں کے تعلقات میں زوال آ ہی نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جس نے  سب سے زیادہ فلسطینیوں کی مدد کی ،معاشی طور پر بھی ،اقتصادی طور پر بھی ،مالی طور پر بھی اورآج بھی موقف کے حوالے سےسعودی عرب اسی موقف پر کھڑا ہے جہاں وہ پہلے دن تھا  ،عرب لیگ کی کانفرنس ہو ،او آئی سی ہو شاہ سلیمان بن عبد العزیز کی تقریر کا آغاز فلسطین سے ہوتا ہے،متحدہ عرب امارات ہمارا دوست ملک اور بھائی ہے،اُنہوں نے اپنے داخلی اور خارجی حالات کو دیکھتے ہوئےاسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ،بحرین نے اپنا فیصلہ کیا ،ہم اپنا فیصلہ اُن پر مسلط نہیں کر سکتے کہ آپ یہ کریں اور یہ نہ کریں،کیا ترکی نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ؟کیا دوسرے ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا؟پاکستان اور سعودی عرب کا موقف ایک ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کی ریاست نہیں مل جاتی ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات تسلیم نہیں کر سکتے۔ 

مزید :

قومی -