دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات،افغانستان کے  منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات،افغانستان کے  منجمد اثاثے بحال ...

  

     دوحہ،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، بیوروچیف،اظہرزمان) افغانستان سے انخلا ء کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان پہلی بار مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہو گئے۔گزشتہ روز طالبان وفد افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں دوحہ روانہ ہوا تھا۔ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان پہلی بار د و روزہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں جن کا آج بروز اتواردوسرااورآخری روز ہے۔اس حوا لے سے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے کہا امریکی وفد سے تعلقات کی نئی شروعات پر بات ہوئی ہے جبکہ افغان مرکزی بینک کے منجمد اثا ثوں سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکی وفد سے انسانی امداد جاری رکھنے اور دوحہ معاہدے کی پاسدرای پر بات ہو ئی جبکہ با ت چیت میں افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیا گیا۔ معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے پر بھی بات ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقا ت اور روابط رکھنے پر تبادلہ خیال ہوا، عرب میڈیا سے گفتگو میں مولوی امیر خان متقی نے کہا امریکہ نے افغا ن عوام کیلئے کورونا ویکسین فراہم کرنے کا بھی کہا ہے۔ اس سے قبل امریکی وفد کا کہنا تھا طالبان سے امریکی شہریوں کے افغا نستان سے بحفاظت انخلا، ایک اغوا شدہ امریکی شہری کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق پر بات کریں گے۔ مذاکرات کا مقصد طالبان کو تسلیم کرنا نہیں۔ امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں محکمہ خارجہ کے نائب نمائندہ خصوصی ٹام ویسٹ، یو ایس ایڈ کی عہدیدار سارہ چارلس اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے عہدیدار شامل ہیں۔قبل ازیں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہاتھا مذاکرات کا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا تاثر لینا ہرگز درست نہیں،دوسری طرف میڈیا اطلاعات کے مطابق طالبان امریکہ کیساتھ ساتھ یورپی یونین کے نمائندوں سے بھی رابطے کررہے ہیں،تاکہ امداد کی بندش سے پیدا ہونیوالے مسائل کو دور کرنے کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد بحال کرائی جا سکے،قبل ازیں قطر میں طالبان کے ترجمان اور نائب وزیر خارجہ سہیل شاہین نے کہا تھا امریکہ کیساتھ مذاکرات برابری کی سطح پر کرنے کیلئے تیار ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادا ر ے الجزیرہ کو انٹرویو میں طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان اور نائب و ز یر خارجہ سہیل شاہین نے کہا ہے اقلیتوں اور خواتین کو کابینہ میں جلد شامل کرلیا جائے تاہم عالمی برادری کو بھی افغان عوام کی خوا ہشات کا ا حتر ا م کرنا چاہیے۔سہیل شاہین جو اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کیلئے طالبان کی جانب سے نامزد کردہ سفیر بھی ہیں نے ایک سوال کے جواب میں کہا امارت اسلامیہ افغانستان امریکہ کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات صرف امریکہ کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں بلکہ برابری کی سطح پر ہونا چاہیئں۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہے صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔

طالبان مذاکرات

مزید :

صفحہ اول -