لاہور ہائیکورٹ کی پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت پر معاونت طلب 

لاہور ہائیکورٹ کی پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت پر معاونت طلب 

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس جوادحسن نے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت پر معاونت طلب کر تے ہوئے ایف آئی اے سمیت مدعاعلیہان سے 20اکتوبرتک جواب طلب کر لیا عدالت نے بینکنگ جرائم عدالت کو کرپٹو کرنسی کے ملزم کی ضمانت پر مزید کارروائی سے بھی روک دیا فاضل جج نے قراردیا کہ بتایا جائے کہ کرپٹو کرنسی کو پاکستان میں ریگولیٹ کرنے کے لئے قانون یا قواعد ضوابط کیا ہیں؟ بتایا جائے کیاپاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی تحفظ حاصل ہے؟ کیا فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ شہریوں کو کسی بھی قسم کی کرنسی کی تجارت سے روکتا ہے؟ کیا ایس ای سی پی نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی قانونی خاکہ تیار کیا ہے؟ کیا ایس ای سی پی نے فنانشل ٹاسک فورس کی رہنمائی سے کرپٹو کرنسی پر عوامی رائے طلب کی ہے؟ کیا ایف آئی اے کو کرپٹو کرنسی کے لین دین کے معاملے میں تحقیقات کا اختیار ہے؟ ایف آئی اے نے کرپٹو کرنسی کرنیوالوں کے خلاف کیا کارروائیاں کیں؟ عدالت عوامی سرمایہ کیغیرقانونی استعمال کا جائزہ لے گی،درخواست گزار جاوید قصوری کی طرف سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ ایف آئی اے نے نجی کمپنی کے مالک ڈاکٹر ظفر کو سائبر فراڈ الزامات کے تحت گرفتار کر رکھا ہے، سیشن عدالت سے ضمانت خارج ہونے پر ملزم نے بینکنگ جرائم عدالت سے رجوع کیا، بینکنگ جرائم عدالت کو سائبر فراڈ کے مقدمہ میں ضمانت کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

معاونت طلب

مزید :

صفحہ آخر -