وکلاء کا سنیارٹی نظر انداز کرکے ججوں کی تعینا تیوں، نیب ترمیمی آرڈ یننس کو چیلنج کرنے کا اعلان 

وکلاء کا سنیارٹی نظر انداز کرکے ججوں کی تعینا تیوں، نیب ترمیمی آرڈ یننس کو ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)وکلاء نمائندوں نے سپریم کورٹ میں سنیارٹی کونظرانداز کرکے ہونے والی ججوں کی تعیناتیوں اورنیب ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا،یہ اعلان آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے کیا گیا لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ہونے والے وکلاء کنونشن میں از خود نوٹس کے خلاف تحفظات کا اظہار جبکہ چیف جسٹس پاکستان سے عدلیہ کی ساکھ کی بحالی کے لئے مختلف اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا،وکلاء نے کنونشن میں لاہورہائی کورٹ بار لاہور کے صدر مقصود بٹر،سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدربیرسٹر صلاح الدین احمد،لاہور ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر سید ریاض الحسن گیلانی،لاہورہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عبدالزاق خان،بلوچستان بارکونسل کے وائس چیئرمین قاسم علی گجزئی،لاہورہائی کورٹ بار بہاولپور کے نائب صدر عبدالکریم لنگڑیال اور لاہورہائی کورٹ بار لاہور کے عہدیداروں سمیت مختلف ضلعی باروں کے صدور اور نمائندوں نے شرکت کی،کنونشن میں منظور کی گئی قرار داد میں وکلاء نمائندوں نے جوڈیشل کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عدلیوں میں ججوں کے تقرر کو شفاف بنانے کے لئے بار اور پارلیمانی کمیٹی کی مشاورت سے اصول وضع کئے جائیں اور سپریم کورٹ وہائی کورٹس میں ججوں کے تقررکیلئے سنیارٹی کے اصول پر سختی سے عمل کیاجائے،وکلاء نمائندوں نے فیصلہ کیاہے کہ سنیارٹی کے برعکس ہونے والی ججوں کی تعیناتیوں کو مشترکہ طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا،وکلاء نے چیف جسٹس پاکستان اور جج صاحبان نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود کو باروں کی سیاست سے الگ رکھیں اور کسی گروپ کی سیاست کا حصہ نہ بنیں،وکلاء نمائندوں کا کہنا ہے کہ ترمیمی نیب آرڈیننس جمہوریت،آئین اور قانون کے اصولوں کے منافی ہے،وکلاء نے نیب عدالتوں میں سابق ججوں کے مجوزہ تقرر کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی کے منافی قراردیا،کنونشن میں نیب ترمیمی آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کافیصلہ کیا گیا،کنونشن میں چیف جسٹس پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے مختلف بنچوں میں مقدمات سماعت کے لئے بھجوانے کے حوالے سے مثبت اقدامات کئے جائیں تاکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے،وکلاء نے ازخود نوٹس کے اختیارات پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس اختیار کے تحت ذاتی ایجنڈے کو پروان نہ چڑھایا جائے اور ازخود نوٹس مقدمات کے فیصلوں کے خلاف لارجر بنچوں میں اپیل کا حق دیاجائے،وکلاء کنونشن میں قراردیاگیاکہ عدلیہ میں اتحاد اور تمام ججوں کو ساتھ لے کرچلنا چیف جسٹس پاکستان کی ذمہ داری ہے،وکلاء نمائندوں نے مزید قراردیاکہ ججوں کے تقررکے حوالے سے 19ویں آئینی ترمیم نے سٹیک ہولڈرز کے درمیان توازن کو تباہ کردیاہے،وکلاء نے اپنی قرارداد میں یہ بھی کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرالتواء ریفرنسز کو تیز رفتاری سے نمٹایاجائے،کنونشن میں سنیارٹی کے برعکس ججوں کی تقرریوں کے خلاف مختلف بارایسوسی ایشنوں کی طرف سے 4اگست سے 25ستمبر تک منظور ہونے والی تمام قراردادوں کی بھی تائید کی گئی،کنونشن کے ایجنڈا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آل وکلاء نمائندہ کنونشن کے میزبان لاہورہائی کورٹ بار کے صدرمقصود بٹر نے کہا کہ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی پر سنیارٹی کا مسئلہ سب کا متفقہ مسئلہ ہے،جب بھی سنیارٹی کو نظر انداز کیا گیاہم نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر احتجاج کیا،انہوں نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بار کونسلز کے پروگراموں میں شرکت کرنا مناسب نہیں،انہوں نے ججوں کے تقررکے موجود ہ طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں لگائے گئے 50 جج آپ کے ہیں اور آپ ہم سے ہی پوچھتے ہیں اگر آپ اپنے عزیز واقارب کو ہائیکورٹ کے جج نہ لگائیں تو ہم سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑیجب ہائیکورٹ کے ججوں کی تعیناتی میرٹ کے مطابق ہوگی تو کسی سے رائے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی،ججوں کی تعیناتی کے لیے طریقہ کاراورصولوں کاتعین ہونا چاہیے۔

وکلاء کنونشن

مزید :

صفحہ آخر -