چاہتے ہیں آئندہ آئی ایم ایف کی ضرورت نہ ہو،شوکت ترین

چاہتے ہیں آئندہ آئی ایم ایف کی ضرورت نہ ہو،شوکت ترین

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ملک کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چاہتے ہیں آئندہ ملک کوآئی ایم ایف کی ضرورت نہ ہو، معاشی نمو 5 سے 7 فیصد ہو گی توغریبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف پنجاب کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں سالانہ عشائیہ کی تقریب کے دوران کیا، تقریب میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد، کنٹرول پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر اساتذہ نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ مجھے نوازشریف نے تھائی لینڈ میں فون کیا اورکہا حبیب بینک کوٹھیک کریں، حبیب بینک میں 32 ہزارملازم تھے اور دس ارب نقصان میں تھا، حبیب بینک کوٹھیک کرتے ہوئے نوازشریف کو کہا تھا مداخلت نہیں کریں گے، نوازشریف نے شروع میں توکہا ٹھیک ایک سال بعد ان کے صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا۔ پھرنوازشریف نے کہا اس کوگرفتارکرلیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 35 سال سے جانتا ہوں، ایماندار آدمی ہے، عمران خان نے کہا آپ عہدہ سنبھالیں، پاکستان کہاں کھڑا ہے، روزآئی ایم ایف پروگرام میں جاتے ہیں، جیسے ہی گروتھ کرنا شروع کرتے ہیں تو کرنٹ اکاؤنٹ بڑھ جاتا ہے، ہماری اکانومی کوکیا ہوا؟وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں گھسنا غلطی تھی، افغان جنگ کے بعد ملک میں کلاشنکوف کا کلچر، دہشت گردی آئی، ہم نے اس پراسس میں اپنی اکانومی کا ستیاناس کردیا۔ ملک کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چاہتے ہیں آئندہ ملک کوآئی ایم ایف کی ضرورت نہ ہو، ماضی میں کسی نے ایکسپورٹ پرتوجہ نہیں دی گئی، ایکسپورٹ نہیں ہونگی تو ڈالرزکیسے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سٹرٹییجی انکولیسو گروتھ کی طرف ہے، ہم نے پاور سیکٹر کو ٹھیک کرنا ہے، گروتھ پانچ سے7فیصد ہو گی توغریبوں کو فائدہ پہنچے گا، وزیراعظم نے کہا ہم نے نچلے طبقے کوریلیف دینا ہے، احساس پروگرام غریب لوگوں کے لیے ایک مکمل پیکیج ہے، مستحکم گروتھ ہمارا ہدف ہے، مستحکم گروتھ ہوگی توہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

شوکت ترین

مزید :

صفحہ آخر -