ربیع الاوّل کا پیغام

ربیع الاوّل کا پیغام

  

رویت ِ ہلال کمیٹی کے مطابق عید میلاد النبیؐ 12ربیع الاول 19اکتوبر بروز منگل منائی جائے گی۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم سے محبت اور ان کے خاتم النبین ہونے پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہادیئ برحق، فخر موجودات، آقائے دو جہاں، امید ِ انسانیت سے عقیدت وہ روشنی ہے، جو ہمارے ایمان کو ہمیشہ منور رکھتی ہے، عہد ِ حاضر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جسے اللہ اور اس کے رسولؐ  کا کلمہ بلند کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بھی کم ہی ملتی ہیں کہ کسی قوم یا نسل نے ایک نظریے کے لیے اس بڑے پیمانے پر ہجرت کی ہو، اتنی جانوں کی قربانی دی ہو،اِس قدر مالی نقصان برداشت کیا ہو، آج بھی پاکستان مسلم اُمہ میں اس لیے توجہ اور اہمیت کا مرکز بنا رہتا ہے کہ اس میں بسنے والے ہر چیز پر کمپرومائز کر لیتے ہیں، لیکن جہاں حرمت ِ رسولؐ کا معاملہ ہو یہ کٹ مرنے پر تیار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں بجا کہا تھا کہ یورپ ایک مسلمان کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم سے عقیدت کو نہیں سمجھ پا رہا۔یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار حیلے بہانوں سے ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں سے نبٹنے کے لیے موثر کارروائی نہیں کر پاتا۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی کی اہمیت کا احساس نہیں کیا جا رہا۔ یہ ماہِ مقدس رحمتوں برکتوں کا مہینہ ہے،کیونکہ اس میں رحمت اللعالمینؐ دنیا میں تشریف لائے۔ وفاقی حکومت کا پیارے نبیؐ  کو ہدیہئ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس ماہ کے حوالے سے عشرہ منانے کا اعلان نہایت احسن  اقدام ہے۔ اس عشرے کے دوران ملک بھر میں شہروں، اضلاع، ڈویژن کی سطح پر مقابلہ حسن ِ قرأت، نعت، کوئز، تقریری مقابلوں، محافل ِ میلاد، رحمت اللعالمین کانفرنسز و سیرت  اجتماعات، محافل ِ سماع، علما مشائخ کانفرنسیں، مقابلہ کتب، سیرت الٰہی و مجموعہ ہائے نعت، نمائش کتب مقابلہ و نمائش خطاطی، نعتیہ مشاعرے، چراغاں، دستاویزی فلموں کی نمائش سمیت مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی۔خود وزیراعظم عمران خان سیرت النبیؐ  کانفرنس سے خطاب کریں گے۔سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز اس حوالے سے خصوصی پروگرام تشکیل و ترتیب دے رہے ہیں۔ اخبارات خصوصی ایڈیشنز کا اہتمام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اے نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم) ہم نے آپؐ  کو  جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پاکستان بھر کی فضا پورا ماہ درود و سلام کی صداؤں سے گونجے گی، ہر چھوٹا بڑا جشن ِ عید میلادِ النبیؐ  کا حصہ ہو گا۔

حکومت کی جانب سے اس عشرے کو عقیدت و احترام سے منانے کا اعلان قابل ِ تحسین ہے۔ ایک اسلامی ریاست سے ایسے ہی اقدامات کی توقع کی جا سکتی ہے،ہم اس فیصلے پر نہایت مسرت کا اظہار کرتے ہیں،لیکن کچھ سوالات ایسے ہیں جن کا جواب ہمیں من حیث القوم تلاش کرنا ہو گا۔ پاکستان پوری دنیا کے ملحدوں کی نگاہ میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے،کیونکہ یہ شمع توحید کے پروانوں کا عظیم ملک ہے۔ دشمن کھلم کھلا اور کبھی ڈھکے چھپے انداز میں ہمیں اسلام سے محبت کی سزا بھی دیتا رہتا ہے۔بھارت اور اسرائیل کی دشمنی تو کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی، ایسے میں کیا صرف عقیدت اور جوش و جذبے سے بھرپور تقریبات کا انعقاد کر کے ہم اپنا فرض ادا کر لیتے ہیں؟ نبی ئ برحق سے محبت کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ تقریبات سے زیادہ ہم کردار بدلنے پر توجہ دیں۔اسوہئ حسنہ کی  جھلک ہمارے شب و روز میں نظر آنی چاہیے،کیا ہم نبی ئ آخر الزماں کے بتائے ہوئے رستہ پر چل پا رہے ہیں یا نہیں، آقائے نامدار کی تمام عمر اپنے ساتھیوں کی کردار سازی اور امت کے لیے ایک واضح روڈ میپ ترتیب دینے میں گذری، زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں شافع محشرؐ نے ہمارے لیے رہنما اصول وضع نہ کیے ہوں۔ مدینہ کی ریاست انصاف کے مضبوط ستونوں پر قائم تھی۔جہاں کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی،یہاں کردار اور علم میں پختگی دوسروں سے ممتاز کرتی تھی،سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی روایت تھی،اب ذرا ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں تو کیا اسوہئ رسولؐ کی کوئی ایک جھلک کوئی ایک رمق ہم میں نظر آتی ہے؟آج وطن ِ عزیز شدید مشکلات کا شکار ہے، معاشی ابتری، بے روزگاری، مہنگائی، ملاوٹ، رشوت، کساد بازاری، چھینا جھپٹی، لوٹ کھسوٹ، کمزور کا استحصال،طاقتور کا راج غریب امیر کے لیے الگ الگ قانون، کن کن چیلنجز کا سامنا نہیں۔ بین الاقوامی ریشہ دوانیاں اپنی جگہ لیکن اس معاشرے کی بے برکتی میں ہمارا اپنا کردار سب سے زیادہ  اہم ہے، کاش ہم اب بھی اس بات کا ادراک کر لیں کہ اگر ہم سچے عاشق رسولؐ ہیں تو پھر ہمارے کردار میں اپنے محبوبؐ  کے کردار کی جھلک بھی نظر آنی چاہیے۔انصار اور مہاجرین کے تعلقات محض ایک واقعہ نہیں ہمارے لیے راہِ ہدایت ہیں۔کاش ہم بھی اپنے اردگرد کم وسیلہ لوگوں کا احساس کر سکیں۔ اصل ضرورت اپنے کردار کے ذریعے نور مجسم ہادیئ برحقؐ سے محبت کا اظہار ہے۔ ہمارے پاس ایک عظیم موقع ہے۔ درود و سلام کی صداؤں میں اپنے اندر کے کھوٹ دور کر لیں، مادی کثافتیں دور کر لیں، انسانیت سے محبت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں۔ اسوہئ رسول ؐپر چلنے ہی میں ہماری نجات ہے۔جذبات کا اظہار کرنا احسن ہے،لیکن جب تک عمل شہادت نہ دے ہماری تقدیر نہیں بدل سکتی، یہی ربیع الاوّل کا پیغام ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -