ملکی حالات اور بیانات کے شعلے ! 

ملکی حالات اور بیانات کے شعلے ! 
ملکی حالات اور بیانات کے شعلے ! 

  

قیام پاکستان کے وقت بھی ملک کے اتنے بدترین حالات نہیں تھے، جتنے آج ہیں حالانکہ اس وقت مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی تھی لیکن قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے دست راست قائد ملت لیاقت علی خان نے بڑے احسن طریقے سے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی، قیام پاکستان کو ابھی 13 مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ قائد اعظم محمد علی جناح  وفات پا گئے، اتنے بڑے سانحے کے باوجود ملک کے حالات  آنے والے ہر روز میں بہتری کی طرف بڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں ہم نے اپنے ازلی دشمن بھارت سے آدھا کشمیر بھی واپس لے لیا،1971 میں جب پاکستان دولخت ہوا،اس وقت بھی بچے کچے پاکستان کو سنبھالنا جان جوکھوں کا کام تھا، لیکن اللہ کے فضل سے پاکستانیوں نے نہ صرف اس صدمے کو برداشت کیا بلکہ ملکی معاملات بھی جلد بہتری کی جانب گامزن ہو گئے۔

12 اکتوبر 1999 کے بعد بھی ملک پرسکون ہی رہا،2002  میں پاکستان مسلم لیگ نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی معاشی حالت بہتری کی جانب گامزن ہوئی، خاص طور پر پنجاب میں چوہدری پرویز الہی نے بطور وزیر اعلی گڈ گورنس کی جو مثالیں قائم کیں،ایسی گڈ گورنس کسی دور حکومت میں  دکھائی نہیں دیتی، جس کے ثمرات سے پوری قوم نے استفادہ کیا۔ 2013 میں جن نامساعد حالات میں مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی، ملک تباہی کی جانب گامزن تھا، لوڈشیڈنگ اس قدر تھی کہ بجلی جانے کے بعد آنے کا نام نہیں لیتی تھی، ملک بھر میں  14،14،18،18 بعض علاقوں میں تو کئی کئی دن بجلی نہیں آتی تھی لیکن تحریک انصاف نے 2018 میں جب اقتدار سنبھالا تو نیشنل گرڈ میں بجلی وافر تھی، 2013 میں جو بجلی آتی نہیں تھی، 2018 میں وہ جانے کا نام نہیں لیتی تھی،  2013 میں پٹرول 118 روپے لیٹر تھا جو نواز شریف نے مہنگائی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کم کر کے اسے 64 روپے لیٹر کر دیا تھا اور آج یہ پھر 128 روپے لیٹر ہے، اس وقت ملکی حالات انتہائی بدتر ہیں،  اس کی سب سے وجہ تحریک انصاف کی قیادت کا خود کو عقل کل سمجھنا ہے، تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں آنے والا ہر روز بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ ملک پر اتنا غیر ملکی قرضہ نہیں تھا جتنا قرض بقول وزیر اعظم عمران خان سابقہ حکومتوں کے دوران لئے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لئے لیا گیا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت آخر کر کیا رہی ہے۔ ابھی تو تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کا تھوڑا بہت خوف ہے، آج اگر حکومت کو یہ خوف نہ ہوتا تو ملک کے حالات بدترین صورت اختیار کر چکے ہوتے۔لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کا یہ حال ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اس کا اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی رویہ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں تحریک انصاف نے مسلم لیگ ق کے امیدواروں کو ڈرانے ڈھمکانے میں کوئی کسر نہیں  چھوڑی، انہیں حکومتی مشینری کے ذریعے ڈرایا دھمکایا گیا۔ راقم الحروف خود اس کا عینی شاہد ہے، گوجرانوالہ سمیت ملک بھر میں اپنے مذموم ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود بھی  تحریک انصاف بمشکل کامیابی حاصل کر پائی، اسے کامیابی نہیں حقیقی طور پر ناکامی کہا جائے تو  زیادہ بہتر  ہو گا۔ تحریک انصاف کے رہنماں کو ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی، تحریک انصاف کی حکومت اپنے جن  اتحادیوں کی بدولت  ایوان اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے، اپنے انہی اتحادیوں کے ساتھ اس کی نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فواد چوہدری کے بھائی یہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے  2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو چند سیٹیں خیرات میں دی تھیں۔ یہ مانگے تانگے کی پارٹی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے خلاف بیانات دینے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان مسلم لیگ ملک کی واحد جماعت ہے جو صرف خدمت کی سیاست  پر یقین رکھتی ہے، 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی درحقیقت مسلم لیگ کے ان خاموش ووٹروں کی مرحون منت ہے جنہوں نے پاکستان بھر کے ہر حلقے سے تحریک انصاف کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں ووٹ دیئے تھے۔ مسلم لیگ کا پاکستان بھر کے ہر حلقے میں 25 سے 30 ہزار ووٹ ہر صورت میں ہے۔تحریک انصاف کے رہنماں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ آج وہ جو آج اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، وہ مسلم لیگ کے قائدین کی بدولت ہی ہے۔

 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چوہدری خاندان واحد خاندان یے جس نے صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا  ہوا ہے، آج اگر چوہدری پرویز الہی سپیکر پنجاب اسمبلی اور چوہدری مونس الہی وفاقی وزیر ہیں تو وہ ان کا حق بنتا ہے، اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی حکومت دراصل مسلم لیگ کی مرہون منت ہے یہ مسلم لیگی قیادت کا بڑا پن ہے کہ وہ تمام تر حکومتی ناانصافیوں کے باوجود اپنا قول نبھا رہی ہے لیکن تحریک انصاف کے قائدین نے مسلم لیگ کے کارکنوں کو دیوار سے لگانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کی ہے، اگر تحریک انصاف مسلم لیگ کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے مشوروں پر عمل کرتی تو آج  ملک میں مہنگائی ہوتی نہ لاقانونیت، تحریک انصاف کے بعض نابالغ سیاستدان  خود کو عقل کل سمجھتے ہیں، اپوزیشن کے ساتھ ذاتی دشمنی سمجھتے ہوئے جھوٹ پر جھوٹ بول کر اس کی کردار کشی کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے لیکن یہ چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہی  اور چوہدری مونس الہی کی بالغ نظری، دور اندیشی اور بصیرت ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کے نا چاہنے کے باوجود بھی  وہ ملک اور قوم کیلئے ایک ایسے وقت میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں  جب حکومتی ہٹ دھرمیوں کے باعث ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، مہنگائی نے عام آدمی اور متوسط طبقہ تو ایک طرف قدرے امیر اور کاروباری طبقے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس وقت ضرورت اس عمل کی ہے کہ عالمی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کو اتحادیوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اور چوہدری خاندان کی سیاسی بصیرت اور تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی طرف طرف اپنی توجہ مبذول کرنی چاہئیے۔

مزید :

رائے -کالم -