جو دیں اپنی خوشی سے دیں  

  جو دیں اپنی خوشی سے دیں  
  جو دیں اپنی خوشی سے دیں  

  

بعض موقعوں پہ عام شہری کے اختیارات اعلی عدالتوں سے کم نہیں ہوتے۔ جیسے کسی بھی معاملے کا سؤو موٹو نوٹس لے لینا، ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں ایسے فقرے بولنا کہ ساری قوم کے ٹِکر چل جائیں اور آخر میں اگلی پیشی کے لئے لمبی تاریخ۔ وہ بد ذوقی جس کا از خود نوٹس لینے پر مَیں پچھلے ہفتے مجبور ہوا ایک عوامی سیرگاہ میں کچھ سینئر افسروں کی کار یں پار ک کرنے کی حرکت ہے۔ گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک ایسی جگہ پہ جو معذور لوگوں کی گاڑیوں کے لئے مخصوص تھی۔ آپ پوچھیں گے کہ افسر کی پہچان کیا ماتھے پہ لکھی ہوتی ہے۔ جواب میں اُس نوجوان کی مثال دوں گا جس نے ادھیڑ عمر باس سے پورے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ سر، آپ کی بائیں آنکھ پتھر کی ہے۔ ”مگر تمہیں کیسے پتا چلا؟“ ”مجھے اُس میں رحم کی جھلک دکھائی دی ہے۔“ اُس شام کسی افسر کی آنکھ میں مجھے رحم کی جھلک تو نظر نہ آئی۔ البتہ سرکاری ڈرائیور کی پھرتی، کار کا ماڈل اور نمبر پلیٹ کا دائرہ نما ڈھکن ہر کسی کے رُتبے کی چغلی کھا رہا تھا۔ 

 جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان کی قانونی لغت میں ’مِٹی گیٹنگ سرکم سٹانسز‘ کی اصطلاح کا امکانی اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔ مراد ہیں وہ عوامل یا ملحوظات جن کی بنا پہ جرم کی شدت کو کم کر کے دیکھا جا سکے۔ مثال کے طور پہ شہر میں ٹریفک کا عمومی دباؤ، موٹر کاروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ اور مذکورہ باغ کے گرد و نواح میں پارکنگ کی ناپید سہولتیں۔ شاید اسی کے پیش ِ نظر اب سے چند سال پہلے باغ کے بیرونی احاطے کی ترتیب و تدوین کا ٹھیکہ ایک عجیب نام کی کمپنی کو دیا گیا۔ نام سے پتا نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ کمرشل کارپوریشن ہے، سرکاری ادارہ ہے یا محکموں کی کوئی اَور صنف۔ توسیعی کام کے دوران مَیں نے پوچھا کہ نئی پارکنگ میں کتنی کاروں کی گنجائش ہوگی۔ اِس پر تین موقعوں پہ تین الگ الگ جواب ملے:تھے۔ چالیس، نوے اور ساڑھے تین سو گاڑیاں۔ حیرت سے کہنا پڑا: ’اللہ ہی جانے کون بشر ہے!‘ 

 پارکنگ کا الجھاؤ ایک تو جگہ کی کمی کے باعث ہے، دوسرے وہ جاگیر دار انہ رویے جن کے لئے آپ کے جاگیردار ہونے کی شرط بھی نہیں۔ رہی ڈرائیونگ تو لائسنس حاصل کرنے کا پروسیجر تو سخت کر دیا گیا۔ لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ڈرائیونگ سکھانے کا کوئی خاطر خواہ انتظام آخر کتنے شہروں میں ہے۔ پھر ٹیسٹ بھی ایسا کہ جس میں دوسری جنگِ عظیم کی فلموں کی طرح ریورس گئیر لگا کر انگریزی کا آٹھ بنانا پڑے۔ شہرہ آفاق برطانوی ڈرائیونگ ٹیسٹ میں اب سے چند سال پہلے تک ایمرجنسی بریک، تھری پوائنٹ ٹرن اور ریورس راؤنڈ دی کارنر یا متوازی پارکنگ کی آزمائش شامل تھی۔ گویا آگے پیچھے پارک کی گئی دو کاروں کے بیچ طے شدہ فارمولے کے مطابق صفائی سے اپنی گاڑی لا کھڑی کرنے کی اٹکل جس پہ بے ساختہ داد دینے کو جی چاہے۔ رہائشی علاقوں میں ہر سڑک پہ موٹر کاروں کی دو رویہ قطاریں اِسی سلیقہ مندی کو سلام پیش کرتی ہیں۔ 

 چنانچہ لندن میں طویل قیام کے دوران یہ کالم نویس ڈرائیونگ چالان سے تو مستقل بچا رہا۔ پھر بھی شاہی بکنگھم پیلس کے باہر ایک یارِ عزیز کی موجودگی میں جو پولیس مقابلہ ہوا اُس کے پیچھے بہرحال پارکنگ کا تنازعہ تھا۔ یہ دسمبر989 1 ء کی وہ شام ہے جب بھارت کے کشمیری نژاد وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹٰی اور بعد ازاں مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بہن کا اِغوا ہوا۔ یہ واردات وادی میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبہ کی بنیاد بنی اور کشمیر کی تحریک آزادی میں یکدم تیزی آگئی۔ رات گئے بی بی سی لندن سے پروگرام جہاں نما پیش کرنا میری ذمہ داری تھی۔ اردو سروس کے ساتھی اور پھر جامعہ ملیہ دہلی میں پروفیسر آف جرنلزم عبید صدیقی نے، جو اب دنیا میں نہیں، میرے کان میں کچھ کہا۔ سن کر دل و جاں میں مستی کی جو لہر دوڑی اُس کی لذت صرف پیشہ ور صحافی ہی محسوس کر سکتا ہے۔

 عبید نے ایک ذاتی وسیلے سے معلوم کر لیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ امریکہ کے نجی دورے سے وطن واپس جاتے ہوئے ایک رات کے لئے آج لندن میں ہوں گے۔ یہ بھی پتا چل گیا کہ موصوف کا قیام ملکہ معظمہ کے پچھواڑے سینٹ جیمزز کورٹ ہوٹل میں ہے۔ سیاسی اغوا کی واردات پر دنیا بھر کی توجہ کشمیر پہ تھی۔ ہم نے فوری فیصلہ کیا کہ ہوٹل پہنچ کر وزیر اعلی کشمیر کا انتظار کیا جائے کیونکہ موقع کی مناسبت سے فاروق عبداللہ کشمیر کی صورتحال پہ کچھ بھی کہہ دیں وہ عالمی خبر ہو گی۔ سر خوشی یہ سوچ کر طاری ہوئی کہ انٹرویو کا اعزاز بس ہمارے حصہ میں آ رہا ہے۔ اعزاز تو ملا مگر واپسی پہ فوجداری مقدمہ راہ میں حائل ہو گیا۔ وہ یوں کہ کئی گھنٹے وزیر اعلی کی راہ دیکھ کر جب ہوٹل سے نکلے اور کار میں بیٹھے تو دو پولیس اہلکاروں نے جس بدتمیزی سے ہمارا دروازہ کھولا ہے، خدا کی پناہ لاہور کا تھانہ مزنگ یاد آ گیا۔ 

 ”سنیچر کی شام کہاں عیاشی ہو رہی تھی؟   “ مجھے لگا کہ دنیا کی مہذب ترین پولیس بھی اندر سے پنجاب پولیس ہوتی ہے جسے بیک وقت کسی پہ جھپٹنے اور پاؤں پڑنے کی مہارت سکھا دی جاتی ہے۔ مَیں نیا نیا نیشنل یونین آف جرنلسٹس کا ممبر بنا تھا (اور اب تک ہوں)۔ کڑک کر کہا: ”آفیسر، تمہاری طرح ہم بھی ڈیوٹی پہ ہیں اور اِس جگہ کار پارک کرنے پہ کوئی پابندی نہیں۔‘‘ افسران کا لہجہ نرم ہو گیا لیکن اِس پہ اڑ گئے کہ علیحدگی پسند تنظیم آئی آر اے کی سرگرمیاں زوروں پہ ہیں اور قصرِ شاہی کی چوبیس گھنٹے نگرانی ہو رہی ہے۔ ”ہم نے سامنے کے شیشے پہ پارکنگ ٹکٹ چسپاں کر دیا ہے۔ اگر اَور پانچ منٹ نہ آتے تو گاڑی پولیس اسٹیشن پہنچ جاتی اور کار برداری کے اخراجات آپ کے ذمہ ہوتے۔“ خیر، کامیاب انٹرویو کی خوشی جرمانے کی پریشانی سے کہیں زیادہ تھی۔ سینئر ساتھی وقار احمد نے دفتر پہنچتے ہی یہ بھی سمجھا دیا کہ واقعہ ڈیوٹی کے دوران ہوا، اس لئے چاہو تو جرمانہ بی بی سی ادا کر سکتی ہے۔ 

 میرے موجودہ شہر میں بھی باغات اور سیرگاہوں کے باہر پارکنگ فیس معاف کر کے حکومت نے کار والوں کی زندگی آسان بنا دی ہے۔ البتہ پارکنگ کا عملہ اِس بحران سے دوچار ہے کہ گاڑی کھڑی کرنے کی فیس اپنی جیب میں ڈال لی جائے یا نہیں۔ اگر کوئی کار والا عملے سے یہ سوال کر دے تو اعلی عدالتوں کے سؤ و موٹو سے ڈرتے ہوئے جواب ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ کے درمیانی علاقے میں ہوتا ہے: ”جو دیں اپنی خوشی سے دیں۔“ کچھ لوگ نا سمجھی میں پرانے نرخوں پہ پارکنگ فیس تھما دیتے ہیں جو قبول کر لی جاتی ہے۔ کچھ میری طرح کے گھاگ بزرگ عملے کی بشریت کا تقاضا پورا نہیں کرتے۔ ایک کار والے نے تو میرے سامنے کہا کہ عید میلاد النبی پہ کچھ دوں گا۔ معذوروں کی پارکنگ ہتھیا لینے کا رویہ خوشی کا سبب تو نہیں، پر افسروں اور ججوں کا یہ قبضہ گروپ ہے بہت طاقتور۔ اتنا طاقتور کہ اِن سے دو دو ہاتھ کرنے کی خاطر مجھے عید میلاد کا نہیں، یوم حشر کا انتظار ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -