گل نو خیز اختر، مزاح نگاری کا مستند کھلاڑی 

گل نو خیز اختر، مزاح نگاری کا مستند کھلاڑی 
گل نو خیز اختر، مزاح نگاری کا مستند کھلاڑی 

  

ملتان سے لاہور جا کر جنہوں نے تختِ لاہور کے بول محاذ کو تسخیر کیا ان میں ہمارے پیارے، راج دلارے، اکھیوں کے تارے  گلِ نو خیز اختر کی خوش قسمتی یہ ہے اسے لاہور میں مزاح کے امامِ وقت عطاء الحق قاسمی کے دستِ حق پرست پر بیعت کرنے کا موقع مل گیا۔ وہ خود لکھتے ہیں میں نے استاد محترم عطاء الحق قاسمی سے تجسس اور قہقہے بانٹنا سیکھا ہے۔ سلسلہئ قاسمیہ سے جڑنے کی وجہ سے گل نو خیز اختر، کے مزاج میں جو تنوع، نکھار اور خوبصورتی پیدا ہوئی ہے آج اس کا ایک زمانہ معترف ہے۔

مزاح نگاری سب سے مشکل کام ہے کیونکہ مزاح کا تعلق اپنی ذات سے نہیں پڑھنے والے کی مسکراہٹ سے ہوتا ہے۔ گل نوخیز اختر کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے، گل نوخیز اختر نے کتاب کے آغاز میں ”اگر میں مزاح نگار نہ ہوتا“ کے عنوان سے جو ڈیڑھ صفحہ لکھا ہے میں سمجھتا ہوں اس نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے مزاح نگاری ایک کانٹوں بھرا راستہ ہے اور یہ راستہ اس نے خود منتخب کیا ہے۔ مزاح نگاری کتنا مشکل فن ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ دیگر اصناف کے مقابلے میں آپ کو مزاح نگار اور مزاح نگاری پر مشتمل کتب بہت کم ملیں گی۔ آج بے شمار افسانہ نگار، شاعر، نقاد، کالم نگار آپ کو مل جائیں گے مگر یوسفی اور قاسمی جیسے مزاح نگار خال خال نظر آئیں گے، اس مشکل میدان کا انتخاب کر کے گل نوخیز اختر نے یہ ثابت کر دیا ہے ایک کوہ کن ہے اور پہاڑ چیرنا جانتا ہے۔ وہ کہتا ہے ہر چیز میں مزاح موجود ہوتا ہے مگر اس کے لئے کھدائی کرنا پڑتی ہے۔ کنوئیں میں اترنا پڑتا اور تہ در تہہ سنجیدگی کے اندر سے مزاح کی دم پکڑ کر اسے باہر کھینچنا پڑتا ہے۔

میں نے گل نو خیز اختر کے مزاحیہ فن پاروں کو جب بھی پڑھا مجھے اس کے ایک ایک جملے میں مزاح کی فراوانی ملی ہے۔ وہ ہر جملے کو سوچ سمجھ کر صفحہ قرطاس پر اتارتا ہے۔ اس کا ہر جملہ نشانے پر بیٹھتا ہے اور قاری کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ لے آتا ہے۔ اس کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ہر جگہ برقرار رہتی ہے، مزاح یا لفظوں کا پھکڑپن اس کے ہاں نظر نہیں آتا۔ جس بندے نے مزاح کو اپنا لائف سٹائل بنا لیا ہو، اس کے مزاح کی شیرینی اور دلکشی سے انکار کیسے ہو سکتا ہے۔ گل نو خیز اختر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اردو زبان کے محاورے پر مکمل عبور حاصل ہے۔ وہ لفظوں کی نشست و برخاست کے حسن اور فن سے مکمل آگاہ ہے۔ اس کی نثر کی دلکشی اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب وہ مزاح کے کسی اچھوتے نکتے کو اتنے ہی اچھوتے انداز میں بیان کرتا ہے۔ جہاں تک اس کے موضوعات کا تعلق ہے تو وہ عام زندگی سے لئے گئے ہیں، تاہم جو چیز انہیں خاص بناتی ہے وہ گل نو خیز کا اسلوب ہے۔ دنیا میں کوئی تخلیق کار ایسا نہیں جس نے اپنے اسلوب کی انفرادیت کے بغیر ادب میں جگہ بنائی ہو۔ میں جناب عطاء الحق قاسمی کی اس رائے سے متفق ہوں کہ ”جملوں کی چستی اور برجستگی نے گل نو خیز اختر کے مزاح کو ایک الگ ہی رنگ میں نمایاں کیا ہے۔ ایک بڑے ادیب اور مزاح نگار کے یہ الفاظ یقیناً گل نو خیز اختر کے مضامین میں اس کی تخلیقی حس جا بجا کرشمے دکھاتی نظر آتی ہے۔ وہ صرف ایک لفظ کی تبدیلی سے مفہوم کو سنجیدگی کا جامہ اتار کے مزاح کے دائرے میں لے آتا ہے۔ اس کے مضامین اپنے عنوانات کے حوالے سے بھی منفرد ہیں خاص طور پر جہاں اس نے لفظوں کی بساط پر کچھ تبدیلیاں کی ہیں وہاں اس کے عنوانات کا ذائقہ قاری کو قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چند عنوانات دیکھئے۔ ”میں کس کے ہاتھ پر اپنی بہو تلاش کروں“، ”جا تجھے کشش ثقل سے آزاد کیا“، ”عجیب شخص ہے بیوی کے گھر میں رہتا ہے“، ”سلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں“، ”لٹ الجھی سلکھا جا رے کالم“، ”یہ مٹن تمہارا ہے“، ”چلتے ہو تو میڈیکل کالج چلیئے“، گل نو خیز اختر ان خوش قسمت لکھنے والوں میں سے ہے جن پر مزاح وارد ہوتا ہے۔ جس طرح ایک اچھے شاعر کی نشانی آدر نہیں آمد ہوتی ہے اسی طرح گل نو خیز اختر بھی گویا چلتے پھرتے مزاح کے حصار میں رہتا ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں طنز کے نشتر بھی چلا جاتا ہے اور لبوں پر مسکراہٹ بھی بکھیر دیتا ہے۔ اپنے ایک کالم ”کوئی باتن ہیں“ میں وہ غربت کا حل کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔

”غربت ختم کرنے کے لئے حکومت کو چاۂے کہ وہ ٹائی ٹینک جیسا کوئی بڑا سا جہاز تیار کرے اور اعلان کر دے کہ جس جس غریب نے امریکہ جانا ہے وہ ہم سے رابطہ قائم کرے۔ جب سارے غریب اکھٹے ہو جائیں تو انہیں بغیر پاسپورٹ ویزے کے جہاز میں بٹھا کر اس پر بڑا سا بینر لگا دے جس پر لکھا ہو ”اس جہاز میں سونا لدھا ہوا ہے“ اور جہاز کا رخ صومالیہ کی طرف کر دیا جائے، جونہی جہاز صومالیہ کی حدود میں داخل ہو صومالی قذاقوں کو ایک مس کال مار دی جائے۔“

گل نو خیز اختر کو اس کی آنکھ کا عرصہ زندگی کے وہ پہلو دکھاتا ہے جو عموماً ہماری آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمارے سامنے زندگی کا وہ چہرہ لے آتا ہے، جسے ہم اپنی کبھی ضرورتوں، کبھی منافقتوں اور کبھی مجبوریوں کی وجہ سے دیکھنا نہیں چاہتے، تاہم معاشرے کا یہ پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بھی وہ اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ کسی کے چہرے پر دکھ یا تکلیف کے آثار نہ آنے پائیں بلکہ وہ مسکراتے ہوئے زندگی کی تلخیوں کو بھی پی جائے، گل نو خیز اختر نے لکھا ہے اگر  ان میں مزاح نگار نہ ہوتا تو زندگی کی مشکلات کے باعث وہ قاتل بھی بن سکتے تھے۔ ہماری خوش قسمتی ہے وہ اصلی والا قاتل نہیں بنا۔ تاہم وہ قاتل ضرور ہے مگر دکھوں اور غموں کا اور ہم ملتانیوں کو اپنے اس قاتل پر فخر ہے۔ (ملتان تقریب رو نمائی میں پڑھا گیا)

مزید :

رائے -کالم -