سیاسی کھیل کے آداب

سیاسی کھیل کے آداب
سیاسی کھیل کے آداب

  

پاکستانی سیاست دانوں نے ایک دوسرے کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، شاید ہی کسی دوسرے ادارے کو اِس کی توفیق ہوئی ہو۔ ہمارے ہاں ایسے اہل ِ سیاست اور صحافت کی کمی نہیں،جو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، دستوری اور سیاسی عمل توانا نہ ہونے کا سبب مختلف اداروں کو قرار دیتے رہتے ہیں، لیکن آپ دل پہ ہاتھ رکھ کر تاریخ پر نظر ڈالیں تو اِس بات کا انکار مشکل ہو جائے گا کہ بنیادی طور پر ہمارے اہل ِ سیاست ہی ہمیں اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں کہ ہم سے آپ اپنی صورت پہچانی نہیں جا رہی۔ برصغیر کے اہل ِ سیاست برطانیہ کی پارلیمانی جمہوریت کی گود میں پروان چڑھے تھے۔ انہوں نے اسی کے اندر رہتے ہوتے جدوجہد کی، اور ووٹ کا جو حق اُنہیں اس نے دیا تھا، اسے انہوں نے آزادی کے حق میں استعمال کر کے زندہ باد کے نعرے لگا اور لگوا لئے۔ بھارتی نیتاؤں نے تو آزادی کے بعد اس نظام کو پوری شدت سے اپنا لیا، ووٹ کی طاقت کو بروئے کار آنے کا موقع دیا۔ عدلیہ، بیورو کریسی اور فوج نے اسی پٹڑی پر سفر جاری رکھا، جو آزادی سے پہلے بچھائی جا چکی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ تمام تر خرابیوں اور حماقتوں کے باوجود ان کا دستوری ڈھانچہ برقرار ہے۔ حکومت نے کس طرح قائم ہونا ہے، اور کس طرح رخصت ہو جانا ہے، ان کے ہاں یہ سوال زیر بحث ہی نہیں آتا۔ ہر چھوٹے بڑے کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پانچ سال بعد الیکشن ہوں گے، اور آئندہ وزیراعظم کا فیصلہ ہو جائے گا۔ انتخابی نتائج کو وہاں کبھی چیلنج ہی نہیں کیا گیا۔کئی کئی روز پولنگ جاری رہتی ہے، کئی کئی روز گنتی ہوتی ہے،لیکن کسی منظم دھاندلی کا کوئی تصور وہاں موجود نہیں ہے۔ کوئی ایسا عنصر بھی دریافت نہیں ہوا، جو اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے خبط میں مبتلا ہو۔ مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگا کر آپے سے باہر ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن انہیں اپنے جامے میں واپس آنا پڑا۔اب نریندر مودی معاشرے کو تقسیم کرنے میں لگے ہیں، تفرقوں کے الاؤ دہکا رہے ہیں، لیکن کسی کو انہیں دھکا دینے کی جرأت نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ علاج پرچی ہی کے ذریعے ہو گا۔ بھارت جانے کا کئی بار موقع ملا، لیکن کسی محفل میں یہ سوال زیر بحث نہیں آیا کہ حکومت کا کیا بنے گا؟ یہ چل پائے گی یا نہیں۔ بھارتی سیاست دانوں نے بیلٹ پیپر کی تقدیس کی حفاظت کی ہے،اور کسی دوسرے شخص یا ادارے کے اندر یہ سوچ تک نہیں ابھر پائی کہ اہل ِ سیاست کے ”شر“ سے نجات دلائی جائے۔ 

پاکستانی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے، یہاں پر انتخاب کے بعد جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ ہر ہارنے والا الزامات کا انبار لگا دیتا ہے، اور ہر جیتنے والا کوئی بھی حربہ آزمانے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔ پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات ہوتے ہیں، پولنگ ختم ہونے کے چند گھنٹے کے اندر اندر نتیجہ مرتب ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود شکوک و شبہات پھیلتے اور پھیلائے جاتے ہیں۔ اداروں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں، وہ تمام اہل کار جن پر پرچی کی حفاظت لازم ہے انہیں امانت میں خیانت کا مرتکب قرار دینے والے دندناتے پھرتے ہیں۔الیکشن کے نتائج پر جھگڑا جاری رہتا ہے، اسے طول نہ دیا جا سکے تو پھر احزابِ اقتدار اور اختلاف ایک دوسرے کے درپے ہو جاتی ہیں۔ اقتدار پر بیٹھنے والا اختلاف کرنے والوں کا قلع قمع کرنے پر تل جاتا ہے، اور حزبِ اختلاف کی بنچوں پر براجمان ہونے والے اقتدار کے پاؤں تلے سے قالین کھینچنے کے لیے سربکف نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم کا کوئی احترام ہے نہ قائد حزبِ اختلاف کی کوئی عزت۔ گھناؤنے سے گھناؤنا الزام ایک دوسرے پر لگا کر اپنے اپنے حلقے سے داد طلب کی جاتی ہے اور اہل ِ وطن کیا دنیا بھر کو باور کرایا جاتا ہے کہ چوروں، لٹیروں اور نقب زنوں کی کوئی آماج گاہ ہے تو وہ پاکستان ہے۔بڑے بوڑھوں کی تو بات ہی چھوڑیے، چھوٹے چھوٹے بچے تک دانتوں میں انگلیاں دبا لیتے ہیں، اور سوچتے ہیں کہ انہیں، چوری، ڈاکے، اور لوٹ مار کے نقصانات کیوں پڑھائے جاتے ہیں، درسی کتب میں یہ ابواب کیوں درج ہیں، جبکہ ملکی سطح پر ان ”جملہ اوصاف“ کی شدت سے پذیرائی ہو  رہی ہے۔

ہوسِ اقتدار ہی نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ اہل ِ سیاست کا ایک گروہ دوسرے کو اکھاڑے سے باہر رکھنے کے لیے کسی سے کسی بھی طرح کی ساز باز کے لیے تیار ہو جاتا ہے،بلکہ اس کے خواب دیکھنے اور منصوبے بنانے کو قومی فریضہ سمجھتا ہے۔ تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے۔ آج بھی پاکستانی ریاست اعتماد کے بحران سے دوچار ہے، ہر شخص اور ہر ادارہ دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔جنرل پرویز مشرف نے نیب کے نام سے جو محکمہ ایجاد کیا تھا، اور اس کا جو قانون وضع کیا تھا، اس کا اور تو جو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہو،پاکستانی سیاست کو اس کے ذریعے جو نقصان پہنچایا گیا،وہ ہر شخص کے سامنے ہے۔جنرل پرویز مشرف نے اس ہی کے ذریعے مسلم لیگ(ن) میں سے (ق) نکلوائی تھی، اور گذشتہ کئی سال سے (ن) میں سے(ش) نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔یہ اوربات کہ رائے عامہ اس کی اجازت نہیں دے رہی۔ ووٹروں کا اپنی جگہ کھڑے رہنا شیرازہ منتشر نہیں ہونے دے رہا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے اپنے دس سالہ دورِ اقتدار میں نیب کے قانون کا سنجیدہ مطالعہ کرنے کی کوئی ضرورت  نہیں سمجھی۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا،لیکن نیب کے قانون کو الہامی سمجھ کر اس کی حفاظت کی جاتی رہی کہ یہ دوسروں کے خلاف استعمال ہو گا تو مزہ آئے گا۔تحریک انصاف کی حکومت کو بوجوہ اس پر نظرثانی کی توفیق نصیب ہوئی ہے تو اب اس کی مخالف جماعتیں دھما چوکڑی مچائے ہوئے ہیں،ان کا خیال ہے کہ آئندہ چند برس  میں انصافی حکومت کے کار پردازان اس کی زد میں ہوں گے،اس لیے اسے جوں کا توں رہنے دیا جائے۔خیال خام کہیے یا پختہ، اس کی تحسین کرنا مشکل ہے۔ نیب کے قانون کی جو بھی اصلاح کی جا سکتی ہو، وہ کر گذرنی چاہئے۔اہل ِ سیاست ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔سپورٹس مین وزیراعظم کے دور میں اسے جو نقصان پہنچا اور پہنچایا جا رہا ہے، وہ ہماری تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو زچ کرتے کرتے بالآخر میثاق جمہوریت پر مجبور ہوئے تھے تو وزیراعظم عمران خان کس طرح  من مانی جاری رکھ سکیں گے؟ان کا وسیع تر مفاد بھی اسی میں ہے،اور اپوزیشن جماعتوں کا  بھی کہ وہ سیاسی کھیل کے آداب جانیں سیاست کو کرکٹ کی طرح کھیلیں۔ آج وہ کل ہماری باری ہے۔

میاں یٰسین مرحوم

برطانیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین میاں محمد یٰسین چند روز پہلے لندن میں انتقال کرگئے۔ان کی عمر86 برس تھی۔وہ سینیٹر طارق چودھری، امریکہ میں مقیم برادرم مشتاق جاوید، اور پنجاب سکولز کے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ٹرسٹی میاں محمد خالد کے بڑے بھائی تھے۔میرا ان سے عشروں کا تعلق تھا۔ان کا تفصیلی تذکرہ تو پھر ہو گا کہ چند سطروں کے کوزے میں محبت اور اخوت کا یہ دریا سمٹ نہیں سکتا، فی الحال دُعا کے لیے ہاتھ اٹھایے، اور پاکستان کے اس قابل ِ فخر سپوت کے لیے اللہ کے حضور مغفرت کی استدعا کر دیجیے۔ وہ اپنے جاننے والوں کے دِلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم -