بنوں،اے این پی کا 13 اکتوبر  کو بھوک ہڑتالی کیمپ کا اعلان

بنوں،اے این پی کا 13 اکتوبر  کو بھوک ہڑتالی کیمپ کا اعلان

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی ضلع بنوں نے13اکتوبر کو چوک بازار بنوں میں بھوک ہڑتالی کیمپ کا اعلان کردیا صوبائی صدر ایمل ولی خان کی جانب سے13اکتوبر کو پورے صوبے میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کے سلسلے میں ضلع بنوں میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے اور کے سلسلے میں عوامی نیشل پارٹی ضلع بنوں کااجلاس ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین نثار خان ایڈوکیٹ کی صدارت میں ملک فہیم خان جامن روڈ کی رہائش گاہ پر منعقدہ ہوا اجلاس میں تحصیل تنظیموں،ملگری استاذان اور طلباء تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے نثار خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2بنوں سٹی کے طلباء کو سیکنڈ شفٹ میں تعلیم دینے کے خلاف پہلے بھی طلابء اور والدین کے ہمراہ احتجاج کرچکے ہیں جس کا ڈپٹی کمشنر بنوں نے نوٹس بھی لیا ہے اور 13اکتوبر کو مہنگائی کے خلاف اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ میں بھی نمبر2ہائی سکول کے طلباء کے حق میں آواز بلند کریں گے اور سوموار کو اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بنوں اور دسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں سے بھی ملاقات کریں گے اور ان سے مطالبہ کریں گے کہ چونکہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر3بنوں سٹی کے طلباء کو نمبر4سکول میں شفٹ کرکے یہاں عارض طور پر میڈیکل کالج کو شفٹ کیا گیا تھا لیکن میڈیکل کالج کی اپنی عمارت بننے کے بعد میڈیکل کالج کے طلباء کو کئی مہینوں سے نئی عمارت میں شفٹ کیا گیا ہے اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2بنوں کی عمارت چونکہ خطرناک قرار دی گئی ہے اور اسے از نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسکی وجہ سے گورنمٹ ہائی سکول نمبر2بنوں سٹی کے طلباء کو گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1بنوں میں سیکنڈ شفٹ میں رات گئے تک پڑھایا جاتا ہے جس سے طلباء اور والدین کو پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ایک وت بنوں کے خالات ٹھیک نہیں اور کچھ لوگون کی دشمنیاں ہونے کی وجہ سے رات کے وقت دور دراز علاقوں میں رات کے وقت جانا ان کیلئے خطرناک ہے لہذا فوری طور پر میڈیکل کالج کی عمارت میں طلباء کو فرسٹ شفٹ میں پڑھانے کا انتظام کیا جائے۔انہوں نے بنوں کے عوام اور تاجر برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں حصہ لیں کیونکہ یہ مسائل صرف عوامی نیشنل پارٹی کے نہیں بلکہ پورے بنوں کے اور پاکستان کے عوام کا مسئلہ ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -